واشنگٹن / بیروت: امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے دوران لبنان اور اسرائیل نے جنگ بندی کے اصولی معاہدے پر اتفاق کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ اس جنگ بندی کے نفاذ کے لیے ضروری ہوگا کہ حزب اللہ مکمل طور پر فائرنگ بند کرے اور جنوبی لِیطانی سیکٹر سے اپنے تمام جنگجوؤں کا انخلا یقینی بنائے۔
بیان کے مطابق فریقین نے مخصوص سکیورٹی اور پائلٹ زونز قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے جہاں مکمل کنٹرول لبنانی مسلح افواج کے پاس ہوگا۔ ان علاقوں میں کسی بھی غیر ریاستی مسلح گروہ یا تنظیم کی موجودگی کی اجازت نہیں ہوگی، تاکہ سرحدی سلامتی کو مستحکم بنایا جا سکے اور مستقبل میں تنازعات کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس نئے سکیورٹی فریم ورک کا بنیادی مقصد لبنان اور اسرائیل کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کا تحفظ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر ریاستی مسلح عناصر کی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ان کی ممکنہ دوبارہ تنظیم کو روکنا بھی معاہدے کے اہم نکات میں شامل ہے۔
امریکا نے اس موقع پر لبنانی مسلح افواج کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ واشنگٹن کے مطابق لبنانی فوج کی استعداد کار میں اضافہ خطے میں استحکام اور ریاستی رٹ کے قیام کے لیے ضروری ہے، اسی لیے تربیت، تکنیکی معاونت اور دیگر شعبوں میں تعاون جاری رکھا جائے گا۔
مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک 22 جون سے شروع ہونے والے ہفتے میں سیاسی اور سکیورٹی سطح کے مذاکرات کا نیا دور شروع کریں گے۔ ان مذاکرات کا مقصد جنگ بندی کے موجودہ فریم ورک کو ایک جامع اور دیرپا معاہدے میں تبدیل کرنا ہوگا۔
امریکا نے واضح کیا ہے کہ وہ آئندہ بھی دونوں فریقوں کے درمیان رابطہ کاری، ثالثی اور سفارتی سہولت کاری کا کردار ادا کرتا رہے گا تاکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جنگ بندی کی شرائط پر مکمل عملدرآمد ہوتا ہے تو یہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان حالیہ برسوں کی سب سے اہم سفارتی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے، جس سے سرحدی کشیدگی میں کمی اور مشرق وسطیٰ میں استحکام کی نئی راہیں کھلنے کا امکان پیدا ہوگا۔
