اروناچل کرسچن فورم (ACF) نے ریاستی حکومت پر زور دیا ہے کہ متنازع تبدیلی مذہب (Anti-Conversion) قانون کے نفاذ یا اس کی عملی تیاری کے عمل کو فوری طور پر روکا جائے۔
فورم کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مجوزہ اقدامات ریاست میں مذہبی آزادی اور سماجی ہم آہنگی کے لیے خطرات پیدا کر سکتے ہیں، اس لیے حکومت کو اس معاملے میں مزید پیش رفت سے پہلے تمام فریقین سے مشاورت کرنی چاہیے۔
رپورٹس کے مطابق اروناچل کرسچن فورم نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کسی بھی ایسے قانون یا ضابطے کو نافذ کرنے سے پہلے جو مذہبی تبدیلی کے عمل سے متعلق ہو، آئینی حقوق اور مذہبی آزادی کو بنیادی حیثیت دی جانی چاہیے۔
دوسری جانب ریاستی حکومت کی جانب سے اس قانون کے حوالے سے مختلف مراحل پر مشاورت اور عدالتی ہدایات کی روشنی میں ضوابط بنانے کا عمل زیر غور ہے، تاہم مسیحی تنظیموں کی جانب سے اس پر تحفظات مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔
یہ معاملہ اروناچل پردیش میں مذہبی آزادی، مقامی روایات اور قانونی فریم ورک کے درمیان جاری بحث کو مزید شدت دے رہا ہے، جہاں مختلف کمیونٹیز اپنے اپنے خدشات کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں۔
