بیجنگ/واشنگٹن — چین نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ کیوبا کے خلاف دہائیوں پرانی ناکہ بندی اور پابندیوں کو جواز دینے کے لیے “جعلی دہشت گردی کے الزامات” گھڑ رہا ہے۔
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا ہے کہ واشنگٹن کیوبا کے خلاف اپنی معاشی ناکہ بندی اور سخت پابندیوں کا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز پیش نہیں کر سکتا، اور یہ اقدامات جزیرے کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔
چین نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ وہ کیوبا کی خودمختاری، قومی سلامتی اور بیرونی مداخلت کے خلاف اس کے مؤقف کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ ترجمان کے مطابق امریکا کو عالمی برادری کے مطالبات پر توجہ دینی چاہیے اور کیوبا کے خلاف تمام پابندیاں، دباؤ اور جبر فوری طور پر ختم کرنا چاہیے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ کیوبا کو دہشت گردی کی حمایت کرنے والے ممالک کی فہرست میں رکھنے کے لیے اضافی شواہد کی ضرورت نہیں۔
امریکی سینیٹ میں اس مؤقف پر سوالات بھی اٹھائے گئے، جہاں ڈیموکریٹ سینیٹرز نے کہا کہ سابق انٹیلی جنس جائزوں میں کیوبا کے ریاستی سطح پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے تھے، تاہم انتظامیہ نے اس کے باوجود اسے دوبارہ فہرست میں شامل کیا۔
سماعت کے دوران مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ مغربی نصف کرہ میں بعض مسلح گروہوں نے ماضی میں کیوبا سے مدد حاصل کی، تاہم انہوں نے واضح طور پر نئے شواہد پیش نہیں کیے۔
اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کیوبا کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظر رکھے ہوئے ہے اور مستقبل میں اقتصادی و سیاسی اقدامات مزید سخت کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکا کیوبا کو ایک مستحکم ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے جو اپنے شہریوں کی ضروریات پوری کر سکے۔
یہ تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا ہے جب امریکا نے لاطینی امریکا اور کیریبین خطے میں اپنی پابندیوں اور توانائی پالیسیوں کو سخت کیا ہے، جس پر عالمی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔
