غزہ: غزہ شہر میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد شہید ہو گئے، جبکہ متعدد دیگر افراد زخمی ہوئے۔ طبی حکام کے مطابق حملے میں ایک مکان مکمل طور پر تباہ ہوگیا اور آگ لگنے کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
رائٹرز کے مطابق حملہ غزہ شہر کے صبرہ محلے میں واقع ایک رہائشی مکان پر کیا گیا، جہاں فراس المصری، ان کی اہلیہ سلسبیل اور ان کے چار بچے، جن میں تین بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل تھا، جان کی بازی ہار گئے۔
اسرائیلی فوج نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کارروائی کا ہدف حماس سے وابستہ ایک عسکریت پسند تھا، جبکہ حملے کے نتائج کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
رائٹرز کی جانب سے حاصل کی گئی ویڈیو میں امدادی کارکنوں کو ملبے میں لگی آگ بجھاتے اور متاثرہ افراد کی لاشیں نکالتے دیکھا گیا۔ امدادی ٹیموں نے متعدد لاشیں سفید کفنوں میں منتقل کیں۔
جاں بحق ہونے والے فراس المصری کے والد ابو یوسف المصری نے بتایا کہ حملہ رات کے وقت اس وقت ہوا جب اہل خانہ سو رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے، بہو اور پوتے پوتیاں اچانک حملے کی زد میں آ گئے۔
انہوں نے کہا، "ہم اپنے بچوں کو آگ اور تباہی سے نہیں بچا سکے۔ یہاں نہ کوئی محفوظ جگہ ہے اور نہ ہی کسی کو پیشگی اطلاع دی جاتی ہے۔”
بعد ازاں غزہ کے وسطی علاقے اور غزہ شہر میں مزید دو الگ اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم چھ افراد مزید جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے، جس کے بعد صرف منگل کے روز ہلاکتوں کی مجموعی تعداد کم از کم 12 ہو گئی۔
غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق اکتوبر 2025 میں جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود اسرائیلی حملے تقریباً روزانہ جاری ہیں، جن میں اب تک 1,160 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ وہ صرف مسلح گروہوں کے ٹھکانوں اور جنگجوؤں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
دوسری جانب مصر، قطر، ترکی اور امریکہ سمیت ثالث غزہ میں مستقل جنگ بندی اور تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم اب تک کسی بڑی پیش رفت کے آثار سامنے نہیں آئے۔
غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق اکتوبر 2023 میں جنگ کے آغاز سے اب تک اسرائیلی کارروائیوں میں 73 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہو کر عارضی خیموں اور تباہ شدہ عمارتوں میں انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

