اسلام آباد/سنگاپور: پاکستان نے جنوبی ایشیا میں علاقائی استحکام کو درپیش خطرات کا ذمہ دار بھارت کی عسکری پالیسیوں اور اشتعال انگیز بیانات کو قرار دیتے ہوئے زور دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے باوجود مذاکرات اور رابطوں کا عمل کبھی منقطع نہیں ہونا چاہیے۔
سنگاپور میں منعقدہ معروف سکیورٹی فورم Shangri-La Dialogue سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی فوج کے ون کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نعمان زکریا نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور تزویراتی استحکام کے لیے مسلسل مکالمہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی اختلافات اور دشمنی کے ماحول میں بھی رابطے اور سفارتی بات چیت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے کیونکہ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ صرف عسکری طاقت ہی نہیں بلکہ موثر مواصلاتی ذرائع بھی استحکام کے ضامن ہوتے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل نعمان زکریا نے بھارت کی عسکریت پسندی، جارحانہ بیانات اور بحرانوں سے نمٹنے کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی کو خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔ ان کے مطابق جنوبی ایشیا میں تزویراتی توازن جوہری دفاع، روایتی فوجی صلاحیت، سیاسی کشیدگی اور دونوں ممالک کے درمیان موجود دیرینہ تنازعات کے امتزاج سے تشکیل پاتا ہے۔
انہوں نے مئی 2025 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے جواب نے خطے میں جنگ کے امکانات سے متعلق تصورات کو تبدیل کر دیا ہے۔ ان کے بقول حالیہ تصادم کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے روایتی جنگ کے امکانات کو مزید محدود کر دیا ہے۔
پاکستانی فوجی عہدیدار نے اعتماد سازی کے اقدامات، شفافیت پر مبنی نظام اور تکنیکی سطح پر مسلسل مکالمے کو غلط فہمیوں کے خاتمے اور ہتھیاروں کی دوڑ کو روکنے کے لیے ضروری قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بحران کے دوران براہِ راست رابطے اور ادارہ جاتی سطح پر مواصلاتی چینلز انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
دوسری جانب بھارتی فوج کے سربراہ Upendra Dwivedi نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ اگر حالات سازگار رہے تو بھارتی فوج پاکستان کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیا دنیا کے حساس ترین جوہری خطوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا اشتعال انگیزی وسیع پیمانے پر عدم استحکام کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی لیے سفارتی رابطوں اور بحران سے نمٹنے کے مؤثر طریقہ کار کو خطے کے امن کے لیے کلیدی حیثیت حاصل ہے۔
