لندن: انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) نے آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اس اہم عالمی بحری گزرگاہ پر تہران کے یکطرفہ اقدامات کو تسلیم نہ کریں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق لندن میں قائم اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کی 40 رکنی گورننگ کونسل کے اجلاس میں آبنائے ہرمز کی صورتحال، بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ اور خطے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
کونسل کی جانب سے منظور کی گئی ایک غیر پابند قرارداد میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو کنٹرول کرنے کے لیے قائم کیے گئے خودمختار ادارے کی شدید مذمت کی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ رکن ممالک ایران کے اس دعوے کو تسلیم نہ کریں کہ آبنائے ہرمز یا اس سے ملحق بعض بحری علاقوں پر اسے خودمختار اختیار حاصل ہے۔
قرارداد میں مزید کہا گیا کہ کسی بھی ایسے ایرانی اقدام کو قبول نہیں کیا جانا چاہیے جس کا مقصد بین الاقوامی جہاز رانی، آزادانہ گزرنے کے حق یا عالمی بحری تجارت میں رکاوٹ ڈالنا ہو۔
رپورٹس کے مطابق حال ہی میں قائم کی گئی ایرانی آبنائے مینجمنٹ اتھارٹی نے جون میں ایک مشاورتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے جاری کردہ ٹرانزٹ پرمٹ کے بغیر کسی بھی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
دوسری جانب ایران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس کے اقدامات کا مقصد بحری سلامتی، قومی خودمختاری اور سکیورٹی مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے، نہ کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنا۔
ایرانی وفد نے تنظیم کے اجلاس میں کہا کہ ایران اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے کنونشن (UNCLOS) کا فریق نہیں، اس لیے وہ اس کنونشن کے تحت قائم قانونی نظام کا پابند بھی نہیں ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار سمندری راستے کے ذریعے مختلف ممالک کو منتقل کی جاتی ہے۔ حالیہ ایران-امریکا کشیدگی کے باعث اس آبی گزرگاہ کی سکیورٹی ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
