پشاور: خیبرپختونخوا کابینہ نے نئی صوبائی ہیلتھ پالیسی، پیشہ وارانہ تحفظ و صحت قواعد اور صوبائی موٹر وہیکلز آرڈیننس میں ذاتی رجسٹریشن نمبر کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مجوزہ ترامیم کی منظوری دے دی۔
وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں مختلف انتظامی اور عوامی فلاح سے متعلق اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
کابینہ نے نئی ہیلتھ پالیسی کی منظوری دیتے ہوئے فیصلہ کیا کہ صوبے میں بہتر طبی سہولیات، پائیدار مالی وسائل، جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل نظام کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
پالیسی کے مطابق تربیت یافتہ طبی عملے، شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور مؤثر شراکت داری کے ذریعے عوام دوست اور جدید صحت کا نظام قائم کیا جائے گا۔
کابینہ نے ثانوی اور خصوصی طبی سہولیات کی بہتری کے لیے مختلف اسپتالوں میں آئی سی یو، سی سی یو، ٹراما سینٹرز اور برن سینٹرز قائم کرنے کی منظوری بھی دی۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ کمزور کارکردگی والے صحت مراکز کو بہتر خدمات کی فراہمی کے لیے آؤٹ سورس کیا جائے گا، جبکہ بزرگ شہریوں کے علاج کے لیے جیریاٹرک میڈیسن متعارف کرائی جائے گی۔
کابینہ نے صوبائی موٹر وہیکلز آرڈیننس میں ذاتی رجسٹریشن نمبر کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مجوزہ ترامیم کی بھی منظوری دی۔
علاوہ ازیں کابینہ نے وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کو انٹرنیشنل کرین فاؤنڈیشن کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کرنے کی اجازت بھی دے دی، جس کا مقصد جنگلی حیات کے تحفظ اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
