انقرہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ممکنہ طور پر آج رات بھی ایران کو نشانہ بنا سکتا ہے، جبکہ تہران کے ساتھ معاہدے کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا رہا۔
ترکیہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ نیٹو کا اجلاس انتہائی کامیاب رہا اور ان کی کوششوں سے کئی تنازعات کو ختم کرانے میں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔
امریکی صدر نے ایران سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تہران کے ساتھ مذاکرات انتہائی مشکل رہے اور ایران کئی دہائیوں سے دنیا کو دھمکاتا آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے گزشتہ روز بحری جہازوں پر ڈرون حملے کیے، جس کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کا مقصد تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت نے مذاکرات میں دھوکا دیا اور وہ برسوں سے خطے میں تشدد اور عدم استحکام کا باعث بنتی رہی ہے۔
انہوں نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کی ایران پالیسی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اوباما کی جوہری ڈیل بدترین معاہدہ تھی اور اس کے تحت ایران کو بھاری مالی فوائد دیے گئے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا نے گزشتہ رات ایران پر سخت حملہ کیا تھا اور اگر ضرورت پڑی تو آج رات بھی مزید کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ان کے بقول ایرانی قیادت مشرق وسطیٰ میں خود کو طاقتور سمجھتی تھی، تاہم اب حالات تبدیل ہو چکے ہیں۔
امریکی صدر کے اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے ان بیانات پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
