لاہور: محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) پنجاب نے ایک اہم کارروائی کے دوران مبینہ طور پر بھارتی خفیہ ایجنسی "را” سے منسلک ایک سہولتکار کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ کارروائی کے دوران ملزم کے قبضے سے دھماکا خیز مواد، ڈیٹونیٹر، موبائل فونز اور پاکستانی و بھارتی کرنسی برآمد ہونے کا بھی بتایا گیا ہے۔
سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق کارروائی ستھگرہ موڑ کے قریب خفیہ اطلاع پر کی گئی، جہاں سے مبینہ دہشتگرد کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ملزم کی شناخت علی خان کے نام سے ہوئی ہے، جو پشاور کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔
ترجمان کے مطابق ملزم کے قبضے سے بارودی مواد، ڈیٹونیٹر، تین بیٹریاں، دو موبائل فونز، پاکستانی اور بھارتی کرنسی برآمد کی گئی۔ واقعے کے بعد ملزم کے خلاف انسداد دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے تاکہ اس کے مبینہ نیٹ ورک اور ممکنہ روابط کا سراغ لگایا جا سکے۔
سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ملزم مبینہ طور پر کن سرگرمیوں میں ملوث تھا اور آیا اس کے دیگر سہولتکار یا ساتھی بھی موجود ہیں یا نہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل 12 اپریل 2026 کو کراچی کے سائٹ ایریا میں پاکستان رینجرز اور سی ٹی ڈی نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے مطلوب دہشتگرد نور عالم عرف وفادار کو گرفتار کیا تھا۔
رینجرز کے مطابق گرفتار دہشتگرد 2014 میں مفتی نور ولی گروہ میں شامل ہوا تھا اور جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز پر حملوں، بارودی سرنگیں نصب کرنے اور متعدد دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث رہا۔ حکام کے مطابق وہ افغانستان فرار ہونے کے بعد بھی دہشتگرد نیٹ ورک سے رابطے میں رہا اور بعد ازاں کراچی میں نیٹ ورک کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور ملک کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو قانون کے مطابق ناکام بنایا جائے گا۔
