ایران نے کہا ہے کہ اس کی قومی فٹ بال ٹیم کو 2026 ورلڈ کپ کے دوران امریکا میں اپنے میچز کے لیے خصوصی سفری پابندیوں کا سامنا ہوگا اور کھلاڑیوں کو میچ کے روز ہی امریکی سرزمین میں داخل ہو کر اسی دن واپس جانا ہوگا۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور خطے کی صورتحال کے باعث ایرانی ٹیم نے اپنی تیاریوں کے لیے امریکا کے شہر ٹکسن، ایریزونا کے بجائے میکسیکو کو عارضی مرکز کے طور پر منتخب کیا ہے۔ اس وقت ایرانی اسکواڈ Tijuana میں مقیم ہے اور وہیں سے اپنے میچز کے لیے سفر کرے گا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق میکسیکو میں ایران کے سفیر Abolfazl Pasandideh نے صحافیوں کو بتایا کہ ایرانی ٹیم کو امریکی حکام کی جانب سے مطلع کیا گیا ہے کہ وہ صرف میچ کے دن امریکا میں داخل ہو سکتی ہے اور مقابلے کے اختتام پر اسی روز واپس جانا ہوگا۔
ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ "ہم صبح امریکا میں داخل ہو سکتے ہیں اور ہمیں اسی دن واپس نکلنا ہوگا۔”
ایرانی حکام کے مطابق ٹیم کی اصل خواہش تھی کہ وہ Tucson میں قیام کرے، تاہم موجودہ سیکیورٹی اور سفارتی حالات کے پیش نظر ایسا ممکن نہیں ہو سکا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے ایرانی کھلاڑیوں کو امریکی ویزے جاری کیے جانے کی تصدیق پہلے ہی کی جا چکی ہے، تاہم ان کے قیام اور نقل و حرکت سے متعلق اضافی پابندیاں برقرار رکھی گئی ہیں۔
فٹ بال مبصرین کے مطابق یہ انتظامات امریکا اور ایران کے درمیان جاری سیاسی تناؤ کے تناظر میں کیے گئے ہیں، جبکہ ایرانی ٹیم اپنی تمام تر توجہ ٹورنامنٹ میں بہتر کارکردگی پر مرکوز رکھے ہوئے ہے۔
