گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے لیے جاری انتخابی مہم اپنے اختتام کو پہنچ گئی ہے اور الیکشن قوانین کے مطابق آج رات 12 بجے کے بعد کسی بھی قسم کی انتخابی سرگرمی یا مہم چلانے پر پابندی عائد ہو جائے گی۔
الیکشن حکام کے مطابق 24 جنرل نشستوں پر پولنگ 7 جون کو منعقد ہوگی، جبکہ پولنگ اسٹیشنز کے لیے انتخابی عملہ اور انتخابی سامان آج مختلف علاقوں کی جانب روانہ کیا جا رہا ہے تاکہ ووٹنگ کے عمل کو بروقت اور شفاف انداز میں یقینی بنایا جا سکے۔
انتخابات کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ پولنگ اسٹیشنز اور حساس مقامات پر مقامی پولیس کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان اسکاؤٹ کے اہلکار بھی تعینات ہوں گے تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔
الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق اس انتخاب میں مجموعی طور پر 9 لاکھ 58 ہزار 480 رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔
انتخابی میدان میں مجموعی طور پر 404 امیدوار حصہ لے رہے ہیں، جن میں 396 مرد اور 8 خواتین امیدوار شامل ہیں۔
سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کی تعداد کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے 23 امیدوار، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے 22 امیدوار، استحکام پاکستان پارٹی کے 15 امیدوار، پاکستان مسلم لیگ کے 11 امیدوار اور جمعیت علمائ اسلام (ف) کے 9 امیدوار انتخابی دوڑ میں شامل ہیں۔
اسی طرح مجلس وحدت المسلمین کے 7 امیدوار، جماعت اسلامی اور متحدہ قومی موومنٹ کے 6، 6 امیدوار میدان میں موجود ہیں، جبکہ 266 آزاد امیدوار بھی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد اور متعدد جماعتوں کی شرکت کے باعث اس بار کا انتخابی مقابلہ خاصا دلچسپ اور سخت ہونے کا امکان ہے۔
