بھارت میں ایک ہندو انتہا پسند تنظیم کے سربراہ نے ایک معروف اسلامی تعلیمی ادارے کے خلاف سخت اور متنازع بیان دیتے ہوئے اس کے انہدام کا مطالبہ کیا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں سیاسی و سماجی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آ گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق تنظیم کے صدر پنکی چودھری نے دیوبند میں واقع دارالعلوم دیوبند کو بلڈوزر کے ذریعے گرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس ادارے سے مبینہ طور پر “مخالف ہندو سرگرمیوں کی منصوبہ بندی” کی جاتی ہے۔
یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا جب انہوں نے غازی آباد میں ایک حالیہ واقعے کے بعد متاثرہ خاندان سے ملاقات کی، جس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے نہ صرف اس تعلیمی ادارے کو نشانہ بنایا بلکہ ملک بھر کی مساجد اور مدارس کے خلاف بھی سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
ان کے اس بیان نے بھارت میں مذہبی ہم آہنگی اور اقلیتوں کے تحفظ سے متعلق بحث کو دوبارہ شدت دے دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات ملک میں پہلے سے موجود مذہبی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور اقلیتی برادریوں میں خوف و ہراس پیدا کرتے ہیں۔
دوسری جانب مختلف سماجی و انسانی حقوق کے حلقوں نے اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے اشتعال انگیز اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنانا کسی بھی جمہوری معاشرے میں ناقابل قبول عمل ہے۔
بھارت میں حالیہ برسوں کے دوران مذہبی مقامات اور اقلیتی اداروں کے حوالے سے متنازع بیانات اور تنازعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس پر اندرونی اور بیرونی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
English Tags (comma-separated, without #):
Hindutva, India, Muslim institution, Darul Uloom Deoband, religious tensions, minority rights, extremism, communal violence, Uttar Pradesh, Hindu nationalist politics
