سلووینیا کی صدر Nataša Pirc Musar نے فلسطینی پرچم صدارتی محل پر لہرا دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انسانی حقوق کے احترام کی یاد دہانی کے طور پر کیا گیا ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سلووینیا کی سیاست میں فلسطین اور اسرائیل کے حوالے سے اختلافات نمایاں ہو گئے ہیں۔ سابق وزیر اعظم Robert Golob کی حکومت نے 2024 میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر سخت مؤقف اختیار کیا تھا
صدر مسر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینی عوام اب بھی امن اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے سے محروم ہیں۔ ان کے مطابق فلسطینی پرچم ایک ہفتے تک صدارتی محل کی عمارت پر لہرایا جائے گا اور بعد ازاں اسے محل کے اندر نمایاں مقام پر نصب کیا جائے گا تاکہ آنے والے تمام مہمانوں کو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی اہمیت یاد دلائی جا سکے۔
انہوں نے اسرائیل پر فلسطینیوں کے خلاف "نسل کشی” کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انسانی وقار، آزادی اور بنیادی حقوق کا احترام تمام انسانوں کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ تاہم اسرائیل مسلسل ایسے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ غزہ میں اس کی فوجی کارروائ۔
دوسری جانب نئے وزیر اعظم Janez Janša کو اسرائیل کے حامی رہنما کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کی حکومت کے قیام کے بعد اسرائیلی وزیر خارجہ Gideon Sa’ar نے اعلان کیا کہ اسرائیل سلووینیا میں اپنا سفارت خانہ کھولے گا، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق صدارتی محل پر فلسطینی پرچم لہرانا سلووینیا کے اندر فلسطین اور اسرائیل سے متعلق جاری سیاسی بحث میں ایک اہم علامتی قدم سمجھا جا رہا ہے، جبکہ یہ اقدام یورپ میں غزہ جنگ کے حوالے سے مختلف سیاسی مؤقف کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
