بشکیک: شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے وزرائے داخلہ اجلاس کے موقع پر پاکستان اور روس نے غیر قانونی امیگریشن، منشیات کی اسمگلنگ اور سرحد پار جرائم کے خلاف تعاون بڑھانے کے لیے دو اہم معاہدوں پر دستخط کر دیے۔
معاہدوں کے تحت دونوں ممالک غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام، شہریوں کی وطن واپسی کے طریقہ کار کو مؤثر بنانے اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ اقدامات کو مزید مضبوط کریں گے۔ اس کے علاوہ منظم جرائم اور منشیات کے نیٹ ورکس کے خلاف معلومات کے تبادلے اور مشترکہ کارروائیوں پر بھی تعاون بڑھایا جائے گا۔
کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقدہ اجلاس کے دوران پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی اور روس کے وزیر داخلہ Vladimir Kolokoltsev نے معاہدوں پر دستخط کیے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بشکیک میں ہونے والی یہ ملاقاتیں اور معاہدے اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان خطے میں سیکیورٹی تعاون کو فروغ دینے اور افغانستان سے جڑے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے علاقائی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان اور روس کے درمیان قانون نافذ کرنے والے اداروں کے روابط میں ایک اہم سنگِ میل ہے، جبکہ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک تجارت، توانائی اور سیکیورٹی کے شعبوں میں بھی تعاون کو وسعت دے رہے ہیں۔
اجلاس کے موقع پر محسن نقوی نے وسطی ایشیائی ممالک کے وزرائے داخلہ سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ تاجکستان کے وزیر داخلہ Rahimzoda Ramazon Hamro کے ساتھ ملاقات میں افغانستان میں دہشت گردی اور منشیات کی پیداوار کو خطے کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا گیا۔
ازبکستان کے وزیر داخلہ Aziz Tashpulatov کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون اور مشترکہ تربیت کے پروگراموں پر اتفاق کیا گیا، جبکہ قازقستان کے وزیر داخلہ Yerzhan Sadenov کے ساتھ غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام اور مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام پر بات چیت ہوئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان "شنگھائی اسپرٹ” کے اصولوں سے وابستہ ہے اور ایس سی او کے رکن ممالک کو دہشت گردی، منظم جرائم، سائبر کرائم، منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔
انہوں نے اس موقع پر ایران کے وزیر داخلہ Eskandar Momeni سے بھی ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
