تل ابیب: ایران میں حکومت کی تبدیلی (رجیم چینج) کے مبینہ منصوبے میں ناکامی کے بعد اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد میں اہم انتظامی تبدیلیاں شروع ہو گئی ہیں، جن کے تحت نئے سربراہ رومن گفمین نے اپنے نائب کو عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق رومن گفمین نے حال ہی میں موساد کی سربراہی سنبھالی تھی اور عہدہ سنبھالنے کے چند روز بعد ہی یہ اہم فیصلہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق برطرف کیے گئے نائب سربراہ کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، تاہم انہیں صرف حرف "A” سے منسوب کیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران میں حکومت مخالف سرگرمیوں اور خفیہ نیٹ ورکس سے متعلق منصوبوں کے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے پر موساد کی اندرونی کارکردگی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں ادارے کے کئی سینئر افسران کی کارکردگی بھی زیرِ غور ہے۔
رپورٹ کے مطابق موساد کی انٹرنیشنل ریلیشنز برانچ کے سربراہ نے بھی پیر کے روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جبکہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید اعلیٰ عہدیداروں کو بھی اپنے عہدوں سے الگ ہونا پڑ سکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ برطرف نائب سربراہ کو گزشتہ سال ایران سے متعلق خفیہ آپریشنز کے لیے وسیع اختیارات، سیکڑوں ایجنٹوں کا نیٹ ورک اور تقریباً ایک ارب شیکل کے وسائل فراہم کیے گئے تھے، تاہم اہداف حاصل نہ ہونے پر ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔
اسرائیلی حکام کی جانب سے ان خبروں پر باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ موساد کے اندر حالیہ تبدیلیاں ایران سے متعلق پالیسی اور خفیہ حکمت عملی میں ممکنہ تبدیلیوں کا اشارہ ہو سکتی ہیں۔
