ایک نئی بین الاقوامی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ سال دنیا بھر میں جوہری ہتھیاروں پر ہونے والے اخراجات میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا، جس سے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دنیا ایک نئی جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کی جانب بڑھ رہی ہے۔
جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے سرگرم عالمی تنظیم International Campaign to Abolish Nuclear Weapons (ICAN) کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق دنیا کے نو جوہری طاقت رکھنے والے ممالک نے گزشتہ سال مجموعی طور پر 119 ارب ڈالر جوہری ہتھیاروں اور متعلقہ پروگراموں پر خرچ کیے، جو 2024 کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہیں۔
دوسری جانب Stockholm International Peace Research Institute کی تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں جوہری وار ہیڈز کی مجموعی تعداد گزشتہ چند دہائیوں کے دوران کم ہوئی ہے اور رواں سال کے آغاز پر یہ تعداد کم ہو کر تقریباً 12,187 رہ گئی۔ تاہم ادارے نے خبردار کیا ہے کہ استعمال کے لیے تیار جوہری ہتھیاروں کی تعداد بڑھ کر 9,745 تک پہنچ چکی ہے، جو تشویش کا باعث ہے۔
ایس آئی پی آر آئی کے ڈائریکٹر کریم ہیگاڈ کے مطابق اگرچہ مجموعی ذخائر میں کمی واقع ہوئی ہے، لیکن جوہری خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ کئی ممالک اپنے زیادہ وار ہیڈز کو ذخائر سے نکال کر فعال ڈیلیوری سسٹمز پر منتقل کر رہے ہیں۔
ماہرین نے اس بڑھتے ہوئے خطرے کی کئی وجوہات بیان کی ہیں، جن میں جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں کا کمزور ہونا، بڑی جوہری طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت اور جدید عسکری ٹیکنالوجیز کا تیزی سے فروغ شامل ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی پیش گوئی کی گئی ہے کہ آنے والے برسوں میں عالمی جوہری ذخائر دوبارہ بڑھنا شروع ہو سکتے ہیں، کیونکہ پرانے ہتھیاروں کو ختم کرنے کی رفتار سست پڑ رہی ہے جبکہ نئے ہتھیاروں کی تیاری اور تعیناتی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے تقریباً 83 فیصد جوہری ہتھیار صرف روس اور امریکا کے پاس موجود ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے ذخائر میں تقریباً پانچ، پانچ ہزار وار ہیڈز شامل ہیں۔ دوسری جانب چین اس وقت اپنے جوہری ذخائر میں سب سے تیزی سے اضافہ کرنے والا ملک ہے اور اس کے پاس تقریباً 620 جوہری ہتھیار موجود ہیں۔
