بغداد: عرب میڈیا کے مطابق ایران نواز عراقی ملیشیا "اولیاء الدم” نے اردن، کویت اور سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حالیہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس گروپ میں ایرانی پاسداران انقلاب کے مشیر بھی شامل ہیں۔
العربیہ اور الحدث کے ذرائع کے مطابق مذکورہ ملیشیا نے عراقی سرزمین سے ڈرون حملے کرتے ہوئے اردن اور کویت کو نشانہ بنایا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران سے وابستہ عراقی گروہوں نے جدید ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے اور ڈرون کارروائیوں کی نگرانی کے لیے 10 رکنی خصوصی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان گروہوں نے امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے دعوے کے ساتھ عرب ممالک پر حملے کیے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
دوسری جانب کویتی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کے روز دشمن کے ڈرون حملے میں العبدلی سرحدی گزرگاہ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں مالی نقصان ہوا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
وزارت دفاع کے ترجمان کرنل اسٹاف سعود عبدالعزیز العطوان نے بتایا کہ حملے کے فوراً بعد متعلقہ اداروں نے جائے وقوعہ کو محفوظ بنانے اور صورتحال پر قابو پانے کے لیے ضروری اقدامات کیے۔
ادھر اردنی مسلح افواج نے بھی اعلان کیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے داغے گئے چار میزائل اور چھ ڈرون طیارے تباہ کر دیے۔
اردنی فوج کے مطابق تین میزائل فضا میں ہی مار گرائے گئے جبکہ چوتھا میزائل غیر آباد علاقے میں گرا۔ اسی طرح گزشتہ بدھ کی شام چھ ڈرون بھی تباہ کیے گئے اور ان تمام واقعات میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔
واضح رہے کہ ایران کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں خطے میں امریکی حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہیں، جبکہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

