ڈبلن: آئرلینڈ نے اسرائیل کے دو انتہائی دائیں بازو کے وزراء، Itamar Ben-Gvir اور Bezalel Smotrich کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ آئرش حکومت نے اس فیصلے کی وجہ فلسطینیوں کے حوالے سے متنازع بیانات اور غزہ فلوٹیلا کے کارکنوں کے ساتھ ان کے رویے کو قرار دیا ہے۔
آئرلینڈ کی وزارتِ انصاف کے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیر انصاف نے امیگریشن حکام کو ہدایت جاری کی ہے کہ دونوں اسرائیلی وزراء کو ریاست میں داخلے کی اجازت نہ دی جائے۔
آئرلینڈ کے وزیر اعظم Micheál Martin نے مونٹی نیگرو میں ایک بین الاقوامی اجلاس کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں اسرائیلی وزراء کا رویہ نہ صرف فلوٹیلا کے معاملے میں بلکہ فلسطینیوں کے بارے میں ان کے مسلسل بیانات کے تناظر میں بھی ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان بیانات سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے یا ان کے وجود کو ختم کرنے کی سوچ کو فروغ دیا جا رہا ہے، جو انتہائی تشویش ناک ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ماہ غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا کے کارکنوں کی اسرائیلی حراست کے بعد اتمار بن گویر کی جانب سے ان کارکنوں کا مذاق اڑانے والے بیانات پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔
مائیکل مارٹن کا کہنا تھا کہ ان وزراء کے اقدامات اور بیانات ایسے ہیں جو یورپی سطح پر بھی پابندیوں کے جواز کو مضبوط کرتے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ European Union بھی اس معاملے پر مشترکہ مؤقف اختیار کرے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ کی صورتحال، اسرائیلی پالیسیوں اور فلسطینی عوام کے حقوق کے حوالے سے یورپی ممالک میں تنقید میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ آئرلینڈ ان یورپی ممالک میں شامل ہے جو فلسطینی عوام کے حقوق اور دو ریاستی حل کی حمایت پر مسلسل زور دیتے رہے ہیں۔
