اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان اور امریکا کے درمیان آٹھ دہائیوں پر محیط تعلقات کو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط شراکت داری کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تعلقات انسداد دہشت گردی، تجارت، سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں مسلسل وسعت اختیار کر رہے ہیں۔
اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی جانب سے امریکا کی 250ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات تاریخی نوعیت کے حامل ہیں اور ان کا آغاز پاکستان کے قیام کے فوراً بعد ہوا جب امریکا ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے پاکستان کو تسلیم کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا دائرہ زراعت، تعلیم، صحت، توانائی اور عوامی روابط تک پھیلا ہوا ہے، جبکہ تربیلا ڈیم جیسے اہم منصوبوں سمیت کئی شعبوں میں امریکی تعاون کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ امریکہ میں لاکھوں پاکستانی نژاد افراد دونوں ممالک کے درمیان مضبوط پل کا کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ پاکستانی طلبہ، ڈاکٹرز، انجینئرز اور پروفیشنلز امریکی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً 80 بڑی امریکی کمپنیاں کام کر رہی ہیں جو سرمایہ کاری اور معاشی تعاون کی واضح مثال ہے، جبکہ پاکستان دنیا کی بڑی فری لانس افرادی قوت رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔
وزیراعظم نے جنوبی ایشیا میں امن کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی بروقت مداخلت سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی، جس پر پاکستان ان کا شکر گزار ہے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کو “امن کا داعی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے کردار کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ایک مخلص ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور امریکی وزیر خارجہ کے درمیان حالیہ ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی تعاون پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔
وزیراعظم نے امریکی ناظم الامور کے کردار کو بھی سراہا اور امید ظاہر کی کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات آنے والے برسوں میں مزید مضبوط ہوں گے۔
