Table of Contents
ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ Strait of Hormuz Iran US Talks میں حالیہ پیش رفت ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے مثبت ماحول پیدا کرے گی۔
انہوں نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان کو امید ہے کہ آبنائے ہرمز پر ہونے والے اتفاقِ رائے کے بعد اسلام آباد مفاہمتی فریم ورک پر پیش رفت مزید تیز ہوگی۔
ایران اور امریکا کے مذاکرات کی حمایت
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان تکنیکی سطح پر مذاکرات کی بحالی کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کوششوں میں اپنا مثبت اور فعال کردار جاری رکھے گا۔
قطر، عمان اور دیگر ممالک کا کردار
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان، قطر، عمان اور دیگر برادر ممالک خطے میں امن و استحکام کے لیے مربوط سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے بحران میں عمان نے نہایت مثبت اور قابلِ تحسین کردار ادا کیا، جبکہ دیگر دوست ممالک نے بھی سہولت کاری میں مؤثر کردار نبھایا۔
خطے میں امن کے لیے پاکستان کا عزم
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں بھی خطے میں امن، استحکام اور سفارتی تعاون کے فروغ کے لیے برادر ممالک کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی جا چکی ہے، جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر سے متعلق دعوت کی تصدیق قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کرے گا۔
غزہ میں امن فوج پر پاکستان کا مؤقف
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ غزہ میں پائیدار امن کے لیے صرف حماس کا غیر مسلح ہونا کافی نہیں بلکہ اسرائیل کا مقبوضہ علاقوں سے انخلا بھی ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل پر اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے اور غزہ سے انخلا کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
طاہر اندرابی نے واضح کیا کہ غزہ میں امن فوج یا امن نافذ کرنے والی فورس کی تعیناتی پر بات کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر اس حوالے سے کوئی باضابطہ تجویز سامنے آئی تو پاکستان اس کا تفصیلی جائزہ لے گا۔
بنگلادیش کے معاملات پر پاکستان کا مؤقف
ترجمان نے کہا کہ پاکستان بنگلادیش کے اندرونی سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔
انہوں نے بنگلادیش کی سابق وزیر اعظم کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ بنگلادیش کا داخلی معاملہ ہے۔
باب المندب حملوں کی مذمت
طاہر اندرابی نے باب المندب میں تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کی سخت مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون اور بحری سلامتی کی واضح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی تجارتی بحری راستوں کے تحفظ، بحری سلامتی اور سعودی عرب سمیت دوست ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
