Table of Contents
سفارتی ترجمان انٹرنیشنل ڈیسک کی رپورٹ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) پر پابندیوں کی تیاری کرلی ہے۔
دو ذرائع نے اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔
ذرائع کے مطابق پابندیوں کا اعلان جلد کیا جا سکتا ہے۔
تاہم اعلان کے حتمی وقت کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔
یہ اقدام آئی سی سی کے خلاف امریکی دباؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔
امریکا پہلے بھی عدالت کے بعض عہدیداروں پر پابندیاں لگا چکا ہے۔
اسرائیلی رہنماؤں کے وارنٹ پر امریکی اعتراض
امریکی انتظامیہ آئی سی سی کے اقدامات کی مخالفت کرتی رہی ہے۔
امریکی حکام اسرائیلی رہنماؤں کے خلاف وارنٹ پر اعتراض کرتے ہیں۔
واشنگٹن افغانستان میں امریکی فوجیوں سے متعلق سابق تحقیقات پر بھی اعتراض کرتا ہے۔
امریکا چاہتا ہے کہ عدالت ایسے معاملات سے پیچھے ہٹے۔ (Reuters)
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جولائی میں نئی مہم شروع کی تھی۔
انہوں نے دیگر ممالک سے آئی سی سی سے علیحدگی کا مطالبہ کیا تھا۔
امریکا نے پہلے کئی ججوں اور پراسیکیوٹرز پر پابندیاں لگائی ہیں۔
اب پوری عدالت کو نشانہ بنانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران اعلان کا امکان
ذرائع کے مطابق پابندیوں کا منصوبہ تیار ہے۔
تاہم حتمی اعلان کی تاریخ ابھی واضح نہیں ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق فیصلہ اسی ہفتے ہوسکتا ہے۔
یہ پیش رفت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران سامنے آسکتی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے فوری طور پر تبصرہ نہیں کیا۔
پابندیوں سے آئی سی سی کے کام پر اثر
ممکنہ پابندیاں پوری عدالت اور اس سے تعاون کرنے والے اداروں کو متاثر کرسکتی ہیں۔
اس سے عدالت کی روزمرہ سرگرمیوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کی پابندیوں سے مالی لین دین متاثر ہوگا۔
امریکی شہری اور کمپنیاں خصوصی اجازت کے بغیر خدمات فراہم نہیں کرسکیں گی۔
اس میں فنڈز، سامان اور مختلف خدمات بھی شامل ہوسکتی ہیں۔
امریکی مالیاتی نظام سے وابستہ بینک بھی محتاط رویہ اختیار کرسکتے ہیں۔
آئی سی سی کے لیے آئی ٹی اور انشورنس خدمات متاثر ہوسکتی ہیں۔
تفتیش کاروں کی خدمات بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔
عدالت کے روزمرہ مالی معاملات بھی مشکل ہوسکتے ہیں۔
امریکی ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
امریکا اور آئی سی سی کے درمیان طویل تنازع
ٹرمپ کی آئی سی سی مخالفت نئی نہیں ہے۔
یہ معاملہ ان کی پہلی صدارتی مدت سے چلا آرہا ہے۔
ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد یہ تنازع پھر نمایاں ہوا۔
آئی سی سی نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف وارنٹ جاری کیے تھے۔
عدالت نے غزہ جنگ سے متعلق مبینہ جرائم کی تحقیقات بھی کی ہیں۔
امریکی فوجیوں سے متعلق افغانستان کی سابق تحقیقات بھی تنازع کا حصہ ہیں۔
اگست میں امریکا نے آئی سی سی صدر ٹوموکو اکانے پر بھی پابندی لگائی۔
ایک سینئر ٹرائل وکیل کو بھی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
آئی سی سی کیا ہے؟
بین الاقوامی فوجداری عدالت کا قیام 2002 میں ہوا تھا۔
عدالت جنگی جرائم، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کی سماعت کرتی ہے۔
آئی سی سی بعض حالات میں اپنا دائرہ اختیار استعمال کرتی ہے۔
یہ اس وقت کارروائی کرسکتی ہے جب قومی نظام کارروائی نہ کرسکے۔
امریکا آئی سی سی کا رکن ملک نہیں ہے۔
