Table of Contents
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے علاقائی ممالک سے اپیل کی ہے۔
انہوں نے یمن کے معاملے پر حقائق کو مدنظر رکھنے پر زور دیا۔
بقائی نے ایران پر الزامات عائد کرنے سے بھی گریز کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران یمن کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔
عمان میں علاقائی اجلاس کا موقع مؤخر
بقائی نے عمان میں علاقائی اجلاس کے معاملے پر بھی بات کی۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اجلاس مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔
ان کے مطابق اس کے بعد اجلاس کے انعقاد کا موقع فی الحال ضائع ہوگیا ہے۔
بقائی نے ایران اور عمان کے درمیان سمندری راستوں پر بھی بات کی۔
انہوں نے کہا کہ محفوظ سمندری راستوں پر دونوں ممالک میں مفاہمت ہوئی ہے۔
امریکی حملے پر ایرانی ترجمان کا مؤقف
بقائی نے اپنے حالیہ دورہ لامرڈ کا بھی ذکر کیا۔
لامرڈ کو رمضان جنگ کے دوران امریکی حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی حکام نے وہاں صورتحال کا مشاہدہ کیا۔
ان کے مطابق امریکی حملے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔
بقائی نے کہا کہ لامرڈ ایک چھوٹا شہر ہے۔
اس کی آبادی تقریباً 30 ہزار افراد پر مشتمل ہے۔
ان کے مطابق شہر کے مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ جدید ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔
بقائی نے حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے اسے ممنوعہ کلسٹر ہتھیار قرار دیا۔
ان کے مطابق حملہ خون کی منتقلی کے مرکز کے قریب ہوا۔
تعلیمی مرکز بھی حملے کے قریب موجود تھا۔
بقائی نے اس کارروائی کو جنگی جرم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ حملے کا مقصد خوف پھیلانا تھا۔
لامرڈ حملے میں 21 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ
بقائی نے کہا کہ شہر پر چند سیکنڈ میں حملہ کیا گیا۔
ان کے مطابق 2 ہزار کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال ہوا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حملے میں 21 افراد مارے گئے۔
ان میں ایک افغان شہری بھی شامل تھا۔
بقائی کے مطابق متعدد افراد زخمی ہوئے۔
کئی افراد مستقل معذوری کا شکار بھی ہوئے۔
انہوں نے متاثرین کے خاندانوں سے اظہار ہمدردی کیا۔
یمن میں ایرانی مداخلت کی تردید
یمن میں ایرانی مداخلت کے الزامات پر بھی سوال کیا گیا۔
بقائی نے ان الزامات کو مسترد کردیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کا یمن کے معاملات میں کوئی دخل نہیں ہے۔
بقائی نے کہا کہ یمن میں ہونے والی پیش رفت ایران کے لیے اہم ہے۔
تاہم انہوں نے اسے ایرانی مداخلت قرار دینے سے اختلاف کیا۔
ان کے مطابق کچھ بیرونی عناصر مسلم ممالک میں کشیدگی بڑھانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایسے عناصر کی سرگرمیوں پر تشویش رکھتا ہے۔
بقائی کے مطابق ایران کا مؤقف اسی تناظر میں بیان کیا جاتا ہے۔
انصار اللہ کو آزاد جماعت قرار دے دیا
بقائی نے یمن کی انصار اللہ کو ایک آزاد جماعت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ گروپ اپنے مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے۔
بقائی نے یمن کی موجودہ صورتحال کو ماضی سے جوڑنے پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ یمن گزشتہ 10 سے 12 سال سے مشکلات کا شکار ہے۔
ان کے مطابق یمن نے جارحیت اور ناکہ بندی کا سامنا کیا ہے۔
بقائی نے کہا کہ یمنی عوام نے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے۔
انہوں نے یمنی عوام کے وقار کے تحفظ کا بھی ذکر کیا۔
ان کے مطابق یمنی عوام اسرائیل اور امریکا کے حملوں سے بھی متاثر ہوئے ہیں۔
بقائی نے کہا کہ یمنی فلسطینی عوام کی حمایت کرتے ہیں۔
انہوں نے اسرائیلی حکومت کی کارروائیوں کی مخالفت کا بھی ذکر کیا۔
ان کے مطابق یمنی عوام نے اپنی آزادی کا اظہار کیا ہے۔
علاقائی ممالک کو الزام تراشی سے گریز کا مشورہ
بقائی نے علاقائی ممالک کے بیانات کا بھی حوالہ دیا۔
انہوں نے ایران پر عائد الزامات پر ردعمل دیا۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی ممالک کو حقائق پر توجہ دینی چاہیے۔
بقائی نے الزام تراشی سے گریز کی اپیل بھی کی۔
ایرانی شہری کی ہلاکت پر اظہار تعزیت
بقائی نے ایک حالیہ واقعے پر بھی تعزیت کا اظہار کیا۔
انہوں نے امریکی اقدامات کے خلاف مزاحمت کرنے والے ایک ایرانی شہری کا ذکر کیا۔
بقائی کے مطابق خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں کشیدگی موجود ہے۔
انہوں نے سمندری راستوں کو غیر محفوظ بنانے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔
ان کے مطابق امریکا نے جزیرہ ہینگم کے قریب ایک بحری جہاز پر حملہ کیا۔
اس حملے میں جمشید رجبی نامی ایرانی شہری ہلاک ہوا۔
بقائی نے متعدد افراد کے زخمی ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔
ان میں کشتی پر کام کرنے والے دو پاکستانی شہری بھی شامل تھے۔
انہوں نے جمشید رجبی کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔
زخمی افراد کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔
امریکی بحری سرگرمیوں پر تنقید
بقائی نے امریکی بحری سرگرمیوں پر بھی تنقید کی۔
انہوں نے امریکی دعوؤں پر سوال اٹھایا۔
ان کے مطابق امریکا سمندری تحفظ کی بات کرتا ہے۔
تاہم اس نے اپنی سرحدوں سے ہزاروں کلومیٹر دور فوج تعینات کی ہے۔
بقائی نے کہا کہ امریکی افواج ایرانی ساحلوں کے قریب موجود ہیں۔
انہوں نے ایرانی بحری جہازوں پر حملوں کا الزام بھی عائد کیا۔
ان کے مطابق ایسی کارروائیوں سے آبی گزرگاہوں کی سلامتی متاثر ہوتی ہے۔
سعودی تیل پائپ لائن حملے سے ایران کا تعلق مسترد
سعودی تیل پائپ لائن پر حملے سے متعلق بھی سوال کیا گیا۔
امریکا نے اس حملے میں ایران کے کردار کا الزام عائد کیا تھا۔
بقائی نے اس الزام کو مسترد کردیا۔
انہوں نے امریکی دعووں کو بے بنیاد قرار دیا۔
بقائی نے کہا کہ امریکی حکام جھوٹی رپورٹس تیار کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے سے باہر کے عناصر کشیدگی بڑھا رہے ہیں۔
ان کے مطابق یہ عناصر علاقائی ریاستوں کے درمیان اختلاف بڑھانا چاہتے ہیں۔
