Table of Contents
بھارتی کرکٹ اسٹار ویرات کوہلی صرف میدان میں کامیابی کے لیے مشہور نہیں ہیں۔
انہوں نے کرکٹ کے ساتھ کاروبار اور سرمایہ کاری میں بھی نمایاں مقام بنایا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ویرات کوہلی کی مجموعی دولت تقریباً 1046 کروڑ بھارتی روپے ہے۔
یہ رقم تقریباً 127 ملین ڈالر بنتی ہے۔
ان کی آمدنی کے بڑے ذرائع کرکٹ، آئی پی ایل، اشتہارات، سوشل میڈیا اور کاروباری سرمایہ کاری ہیں۔
بی سی سی آئی سے کروڑوں روپے آمدنی
ویرات کوہلی نے بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ (BCCI) سے اپنا سفر 2008-09 میں شروع کیا۔
اس وقت انہیں گریڈ ڈی کنٹریکٹ کے تحت 15 لاکھ روپے ملتے تھے۔
بعد میں وہ گریڈ بی اور گریڈ اے میں شامل ہوئے۔
2017-18 سے وہ مسلسل اے پلس کیٹیگری میں شامل ہیں۔
اس کیٹیگری کے تحت انہیں سالانہ 7 کروڑ روپے ملتے ہیں۔
آئی پی ایل سے 209 کروڑ روپے سے زیادہ کمائی
ویرات کوہلی کی آئی پی ایل آمدنی بھی مسلسل بڑھتی رہی ہے۔
2008 میں رائل چیلنجرز بنگلور نے انہیں 12 لاکھ روپے میں خریدا تھا۔
2011 سے 2013 تک انہیں سالانہ 8.28 کروڑ روپے ملے۔
2014 سے 2017 تک ان کی سالانہ تنخواہ 12.5 کروڑ روپے رہی۔
2018 سے 2021 تک انہیں ہر سال 17 کروڑ روپے ملے۔
2022 سے 2024 تک ان کی تنخواہ 15 کروڑ روپے سالانہ رہی۔
2025 کے سیزن کے لیے انہیں 21 کروڑ روپے ملے۔
رپورٹس کے مطابق کوہلی آئی پی ایل سے اب تک 209.2 کروڑ روپے کما چکے ہیں۔
اشتہارات بھی آمدنی کا بڑا ذریعہ
ویرات کوہلی کئی عالمی اور بھارتی برانڈز کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق وہ ایک اشتہار کے لیے 5 سے 10 کروڑ روپے تک معاوضہ لیتے ہیں۔
ان کے برانڈ پارٹنرز میں پوما، ایم آر ایف اور آڈی شامل ہیں۔
پیپسی، ہیرو موٹو کارپ، ویلوولین، ایم پی ایل اور فاسٹ ٹریک بھی ان سے منسلک رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اشتہارات سے ان کی سالانہ آمدنی 100 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔
سوشل میڈیا سے بھی کروڑوں کی آمدنی
ویرات کوہلی انسٹاگرام پر بھی انتہائی مقبول ہیں۔
ان کے فالوورز کی تعداد 260 ملین سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق وہ ایک انسٹاگرام پوسٹ سے 6 سے 11 کروڑ روپے تک کما سکتے ہیں۔
ایکس اور فیس بک پر پروموشنل مواد بھی ان کی آمدنی کا ذریعہ ہے۔
مختلف کاروباروں میں سرمایہ کاری
ویرات کوہلی نے کئی کاروباروں اور اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔
ان کی سرمایہ کاری میں پلانٹ بیسڈ فوڈ کمپنی بلیو ٹرائب شامل ہے۔
چزل فٹنس، نیووا اور اسپورٹس سوشل میڈیا پلیٹ فارم اسپورٹ کونوو بھی ان کے کاروباری مفادات میں شامل ہیں۔
انہوں نے گیمنگ کمپنی ایم پی ایل کی پیرنٹ کمپنی گیلیکٹس فن ویئر میں بھی سرمایہ کاری کی ہے۔
ڈیجٹ انشورنس میں بھی ان کی سرمایہ کاری بتائی جاتی ہے۔
کوہلی نے نوجوانوں کے فیشن برانڈ "ورون” کی بھی مشترکہ بنیاد رکھی ہے۔
جائیدادوں کی مالیت کروڑوں روپے
ویرات کوہلی نے رئیل اسٹیٹ میں بھی بڑی سرمایہ کاری کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق گڑگاؤں میں ان کا بنگلہ تقریباً 80 کروڑ روپے مالیت کا ہے۔
ممبئی میں ان کے لگژری اپارٹمنٹ کی مالیت تقریباً 34 کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔
علی باغ میں بھی ان کی تقریباً 20 کروڑ روپے کی جائیدادیں موجود ہیں۔
لگژری گاڑیوں کا شوق
ویرات کوہلی مہنگی اور لگژری گاڑیوں کے لیے بھی مشہور ہیں۔
ان کے پاس آڈی کی کئی گاڑیاں موجود ہیں۔
ان کے گیراج میں لینڈ روور ووگ بھی شامل ہے۔
بینٹلی کانٹی نینٹل جی ٹی اور بینٹلی فلائنگ اسپر بھی ان کی گاڑیوں میں شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق بعض گاڑیوں کی قیمت 3 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔
سالانہ آمدنی 150 کروڑ روپے تک
رپورٹس کے مطابق ویرات کوہلی کی سالانہ آمدنی تقریباً 150 کروڑ روپے ہے۔
اس حساب سے ان کی اوسط ماہانہ آمدنی تقریباً 12.5 کروڑ روپے بنتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق انہوں نے 2024 میں 66 کروڑ روپے ایڈوانس ٹیکس بھی ادا کیا۔
ویرات کوہلی کی مالیاتی سلطنت صرف کرکٹ کی آمدنی تک محدود نہیں۔
ان کی برانڈ ویلیو، کاروباری سرمایہ کاری، جائیداد اور سوشل میڈیا بھی اہم ذرائع ہیں۔
