منیلا: امریکہ، جاپان اور فلپائن نے بحیرۂ جنوبی چین میں پانچ روزہ مشترکہ بحری مشقیں مکمل کر لیں، جبکہ متنازع سمندری علاقے میں فلپائن اور چین کے درمیان حالیہ تصادم کے بعد دونوں ممالک ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق فلپائنی فوج نے بتایا کہ 21 سے 25 جولائی تک جاری رہنے والی ان مشقوں میں جنگی بحری جہاز، کوسٹ گارڈ کے جہاز، نگرانی کرنے والے طیارے اور لڑاکا طیارے شریک ہوئے۔ مشقوں کا مقصد اتحادی ممالک کے درمیان باہمی تعاون، مشترکہ آپریشنل صلاحیت اور علاقائی سلامتی کو مزید مضبوط بنانا تھا۔
فلپائنی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ مشقیں انڈو پیسیفک خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے فروغ کے لیے شراکت دار ممالک کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں، تاہم مشقوں کے درست مقام کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
یہ مشترکہ مشقیں ایسے وقت میں منعقد ہوئیں جب فلپائن اور چین کے درمیان بحیرۂ جنوبی چین میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ فلپائن نے الزام عائد کیا کہ سیکنڈ تھامس شول کے قریب چینی کوسٹ گارڈ اہلکاروں نے ایک فلپائنی ملاح پر ڈنڈوں سے حملہ کیا، جبکہ چین نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فلپائنی جہازوں نے پہلے چینی کشتیوں پر حملہ کیا۔
فلپائنی کوسٹ گارڈ کے مطابق مشقوں کے دوران سکاربورو شول کے قریب چینی کوسٹ گارڈ نے دو مختلف مواقع پر فلپائن کے سرکاری جہازوں پر واٹر کینن کا استعمال کیا۔ دوسری جانب چین کا کہنا ہے کہ اس نے فلپائنی جہازوں کی مبینہ "غیر قانونی دراندازی” کے جواب میں قانون کے مطابق اقدامات کیے۔
ادھر فلپائن کی مسلح افواج کے نئے چیف آف اسٹاف جنرل انتونیو نافاریتے نے متنازع تھیتو جزیرے کا دورہ کیا، جو سپراٹلی جزائر میں فلپائن کے زیر انتظام اہم چوکی ہے۔ انہوں نے وہاں تعینات فوجیوں سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملکی خودمختاری کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور حکومت ان کی دفاعی اور آپریشنل صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔
واضح رہے کہ چین تقریباً پورے بحیرۂ جنوبی چین پر اپنی خودمختاری کا دعویٰ کرتا ہے، تاہم 2016 میں بین الاقوامی ثالثی عدالت نے اس دعوے کو قانونی بنیاد سے محروم قرار دیا تھا، جسے بیجنگ نے مسترد کر دیا تھا۔

