ہانگ کانگ/بیجنگ: جنوبی بحیرۂ چین میں نانشا جزائر کے قریب یونگ شو (فائر کراس) ریف کے نزدیک ایک ویتنامی مال بردار جہاز ڈوبنے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ اب تک 45 افراد کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے اور 17 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی اور خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق "کھوئی نگوین 18” (Khoi Nguyen 18) نامی ویتنامی رجسٹرڈ جہاز میں 62 ویتنامی شہری سوار تھے، جب وہ جنوبی بحیرۂ چین کی مصروف آبی گزرگاہ میں فائر کراس ریف کے قریب حادثے کا شکار ہو گیا۔
رپورٹس کے مطابق ہفتے کی شام 6 بج کر 23 منٹ پر چین کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے نانہائی ریسکیو بیورو کے امدادی جہاز نانہائی جیو 115 نے سمندر میں راکٹ پیراشوٹ کے ذریعے بھیجا گیا ہنگامی سگنل دیکھا، جس کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں۔
امدادی ٹیموں نے فائر کراس ریف کے شمال میں تقریباً 38 سمندری میل کے فاصلے پر ایک لائف رافٹ سے 29 افراد کو بحفاظت نکالا، جبکہ بعد کی کارروائیوں میں مزید افراد کو ریسکیو کیا گیا، جس کے بعد بچائے گئے افراد کی مجموعی تعداد 45 ہو گئی۔
حادثے کے مقام پر چین کے متعدد امدادی جہاز، ایک ریسکیو ہیلی کاپٹر اور ویتنام کا ایک جہاز مشترکہ طور پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ لاپتہ 17 افراد کی تلاش بدستور جاری ہے۔
سانشا میری ٹائم سرچ اینڈ ریسکیو سینٹر کے مطابق کھوئی نگوین 18 تقریباً 69.9 میٹر لمبا، 10.8 میٹر چوڑا اور 999 ٹن مجموعی وزن رکھنے والا ویتنامی رجسٹرڈ مال بردار جہاز ہے۔
دوسری جانب ویتنام کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ حادثے کے فوری بعد ویتنامی حکام نے چینی حکام سے رابطہ قائم کیا اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے اپنے وسائل بھی روانہ کیے۔ وزارت کے ترجمان نے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں تعاون پر چین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات بھی جاری ہیں، جبکہ ریسکیو ٹیمیں لاپتہ افراد کی تلاش میں مسلسل مصروف ہیں۔

