Table of Contents
دبئی/واشنگٹن: ایران نے امریکا کی نئی پابندیوں پر سخت ردعمل کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی فوج نے کسی بھی نئے امریکی اقدام کا جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔
ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے خبردار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کا ردعمل وسیع اور فیصلہ کن ہوگا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی فوج مکمل تیاری کی حالت میں ہے۔
اس تیاری میں زمینی، بحری اور فضائی شعبے شامل ہیں۔
سائبر اسپیس اور فضائی دفاع بھی اس تیاری کا حصہ ہیں۔
ایرانی جنرل نے دشمن کے اقدامات کا بھرپور جواب دینے کا عزم ظاہر کیا۔
امریکا کی نئی پابندیوں کی تیاری
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پابندیوں کی تفصیلات پیر کو سامنے لائی جائیں گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سخت موقف اختیار کیا ہے۔
انہوں نے ایران کو معاشی مدد دینے والے ممالک کو خبردار کیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ایسے ممالک کو اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے ایران کو کسی بھی قسم کی معاشی لائف لائن دینے سے خبردار کیا۔
ایران کا ممکنہ فوجی ردعمل
ایرانی حکام نے امریکا کو سخت پیغام دیا ہے۔
تہران نے کسی نئے حملے یا اقدام کا جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔
ایران کے پاس مختلف نوعیت کی فوجی صلاحیتیں موجود ہیں۔
ان میں میزائل اور ڈرونز بھی شامل ہیں۔
ایرانی حکام آبنائے ہرمز کی اہمیت سے بھی واقف ہیں۔
یہ راستہ عالمی تیل کی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے۔
ایران کو معاشی دباؤ کا سامنا
امریکی حملوں اور پابندیوں نے ایران کی معیشت کو متاثر کیا ہے۔
تہران کو مالی مشکلات کا بھی سامنا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اس کا اعتراف کیا۔
انہوں نے معاشی دباؤ سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی پر زور دیا۔
قالیباف کے مطابق ملک کو مالی اور اقتصادی سرگرمیاں جاری رکھنا ہوں گی۔
انہوں نے قومی پیداوار بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ایران اور امریکا میں کشیدگی برقرار
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
دونوں ممالک کے رہنماؤں کے بیانات بھی سخت ہوتے جا رہے ہیں۔
ایرانی حکام امریکی دباؤ کو مسترد کر رہے ہیں۔
دوسری جانب واشنگٹن تہران پر مزید معاشی دباؤ ڈالنے کی تیاری کر رہا ہے۔
حالیہ صورتحال سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر بھی اس کے اثرات پڑ سکتے ہیں۔
