Table of Contents
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو حوثی حملوں کے خلاف اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے یہ بیان یمن میں سعودی حمایت یافتہ فورسز اور حوثیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی لڑائی کے دوران دیا۔
روبیو نے واضح کیا کہ امریکہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی اور سکیورٹی معاہدے کی پاسداری کرے گا۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید عملی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
امریکہ سعودی عرب کے سکیورٹی وعدوں پر قائم
یورپ کے دورے پر روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی معاہدہ موجود ہے۔
ان کے مطابق واشنگٹن اس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ روبیو نے اس حوالے سے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
روبیو نے کہا کہ سعودی عرب کو حوثیوں کی جانب سے حملوں کا سامنا ہے۔ ان کے بقول مملکت کو اس خطرے کے خلاف اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔
باب المندب کے قریب فوجی کارروائی
روبیو نے یمن میں سعودی حمایت یافتہ کارروائی کو بھی متوقع پیش رفت قرار دیا۔ ان کے مطابق سعودی عرب اور یمنی حکومتی افواج باب المندب کے قریب حوثیوں کے کنٹرول کو قبول نہیں کرتیں۔
انہوں نے کہا کہ یمنی فورسز ان علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گی جہاں سے انہیں پہلے بے دخل کیا گیا تھا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز نے باب المندب کے قریب کئی اہم علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی اطلاع دی ہے۔ یمنی حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں ذباب اور دیگر اہم مقامات شامل ہیں۔
سعودی قیادت میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں
رپورٹس کے مطابق سعودی قیادت میں اتحاد نے یمنی حکومتی فورسز کی کارروائیوں کے لیے فضائی معاونت فراہم کی ہے۔ اتحاد کے ترجمان نے باب المندب کے علاقے میں فضائی تحفظ فراہم کرنے اور حوثیوں کے خلاف کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے۔
دوسری جانب حوثیوں نے بھی سعودی عرب میں میزائل اور ڈرون حملوں کے دعوے کیے ہیں۔ ان دعووں کی بعض تفصیلات کی آزادانہ طور پر فوری تصدیق نہیں ہو سکی۔
روبیو کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن سعودی عرب کے دفاعی حق کی حمایت کر رہا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ امریکہ براہ راست جاری فوجی کارروائیوں میں کس حد تک شریک ہوگا۔
