ایران نے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) پر برطانیہ کی جانب سے نئی پابندیاں عائد کیے جانے کے فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے تہران میں تعینات برطانوی سفیر ہیوگو شارٹر کو وزارت خارجہ طلب کر کے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس اقدام کو “غیر منصفانہ اور بلاجواز” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اس فیصلے کا “باہمی اور فیصلہ کن جواب” دے گا۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا (IRNA) کے مطابق وزارت خارجہ نے برطانوی سفیر کو طلب کرتے ہوئے واضح کیا کہ برطانیہ کی جانب سے اسلامی انقلابی گارڈ کور کو ریاستی خطرات سے بچاؤ کے قانون کے تحت شامل کرنا دوطرفہ تعلقات کے لیے منفی قدم ہے۔
دوسری جانب برطانوی حکومت نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے نئی قانونی پابندیاں متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ ان پابندیوں کے تحت ایسے افراد کو، جو ان گروہوں کی حمایت یا معاونت کرتے ہوئے پائے جائیں، 14 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا تھا کہ نئی قانون سازی کا مقصد برطانیہ کو جاسوسی، غیر ملکی مداخلت، تخریب کاری اور قومی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں سے محفوظ بنانا ہے۔
مجوزہ قانون کے تحت صرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب ہی نہیں بلکہ روس کی جی آر یو (GRU) سے منسلک پراکسی عناصر اور ایران سے وابستہ ایک گروہ اسلامک موومنٹ فار کمپینئنز آف رائٹ کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس پر لندن میں یہودی برادری کی املاک پر حملوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
برطانوی وزارت داخلہ کے مطابق نئی قانون سازی حکومت کو یہ اختیار دے گی کہ وہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھی جانے والی غیر ملکی ریاستوں سے وابستہ پراکسی گروپوں کے خلاف مؤثر کارروائی کر سکے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب رواں سال برطانیہ میں عبادت گاہوں، کمیونٹی ایمبولینسوں اور یہودی برادری سے متعلق دیگر مقامات پر آتش زنی سمیت متعدد سام دشمن حملے رپورٹ ہوئے ہیں، جن کے بعد حکومت نے قومی سلامتی کے اقدامات مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

