اسلام آباد امن مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی عمل ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات آج اتوار 21 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں منعقد ہوں گے۔ ان مذاکرات میں پاکستان اور قطر بھی اہم شراکت دار اور سہولت کار کے طور پر شریک ہوں گے، جبکہ مقصد حالیہ مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والے نکات پر عملی پیش رفت کو یقینی بنانا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات میں ایران اور امریکا کے نمائندوں کے علاوہ پاکستان اور قطر کے وفود بھی شریک ہوں گے۔ پاکستان بطور ثالث اور سہولت کار اس سفارتی عمل میں اپنا کردار جاری رکھے گا تاکہ اسلام آباد میں طے پانے والے تاریخی معاہدے کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔
حالیہ ہفتوں کے دوران پاکستان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے میں فعال کردار ادا کیا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کی تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات اور ایرانی حکام کے ساتھ اعلیٰ سطحی مشاورت کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے کے لیے نئی سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آئی تھی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی اس سے قبل واضح کر چکے ہیں کہ سوئٹزرلینڈ کا دورہ بنیادی طور پر فریق مخالف کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران اپنی ذمہ داریوں کا پابند ہے تاہم لبنان میں جنگ بندی اور دیگر علاقائی معاملات کے حوالے سے بعض تحفظات اب بھی موجود ہیں۔ ایرانی حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ حتمی اور جامع معاہدے کے لیے باضابطہ مذاکرات اس وقت آگے بڑھیں گے جب ابتدائی مفاہمتی نکات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی حکام بھی اس سفارتی عمل کو جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔ امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف سمیت اعلیٰ امریکی ٹیم پہلے ہی سوئٹزرلینڈ پہنچ چکی ہے جبکہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی بھی مذاکرات کے تکنیکی پہلوؤں میں معاونت کے لیے وہاں موجود ہیں۔
عالمی مبصرین کے مطابق برگن اسٹاک مذاکرات نہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد سازی کے لیے اہم ہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے، توانائی کی عالمی منڈیوں میں استحکام پیدا کرنے اور ایک وسیع تر سفارتی معاہدے کی بنیاد رکھنے کے لیے بھی فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ پاکستان اور قطر کی شمولیت اس بات کا اشارہ ہے کہ علاقائی طاقتیں بھی اس عمل کو کامیاب بنانے کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تکنیکی مذاکرات کامیابی سے آگے بڑھتے ہیں تو یہ ایران اور امریکا کے درمیان ایک جامع معاہدے کی راہ ہموار کر سکتے ہیں، جس میں جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں، بین الاقوامی نگرانی اور علاقائی سیکیورٹی سے متعلق حساس معاملات شامل ہوں گے۔ اس تناظر میں پاکستان کا ثالثی کردار عالمی سطح پر اس کی سفارتی اہمیت میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔
