پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اہم سفارتی دورے پر مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ آر-4 گروپ کے چوتھے وزارتی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ قاہرہ ایئرپورٹ پر ان کا استقبال مصر کی اسسٹنٹ وزیر خارجہ برائے پالیسی پلاننگ نازیہ النگاری اور مصر میں پاکستان کے سفیر عامر شوکت نے کیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق آر-4 گروپ کے اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے، جہاں خطے کی مجموعی صورتحال، مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام، فلسطین کی صورتحال، علاقائی سفارت کاری، اقتصادی تعاون اور باہمی تعلقات سمیت متعدد اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سیاسی اور سکیورٹی صورتحال مسلسل عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی عمل، غزہ کی صورتحال اور علاقائی استحکام سے متعلق معاملات بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔ آر-4 گروپ کو خطے میں اعتدال پسند اور مؤثر سفارتی پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جہاں اہم اسلامی ممالک باہمی مشاورت کے ذریعے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے ساتھ الگ الگ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں سیاسی، اقتصادی، تجارتی، دفاعی اور علاقائی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو متوقع ہے، جبکہ پاکستان کے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
پاکستانی وزیر خارجہ کی مصری قیادت کے ساتھ ملاقاتیں بھی اس دورے کا اہم حصہ ہیں۔ ذرائع کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے بھی ملاقات کریں گے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی امن اور امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
پاکستان اور مصر کے درمیان گزشتہ برسوں میں سیاسی اور اقتصادی تعلقات میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے، جبکہ دونوں ممالک بین الاقوامی فورمز پر بھی کئی اہم معاملات پر ایک دوسرے کے مؤقف کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اسحاق ڈار کا یہ دورہ نہ صرف پاکستان اور مصر کے تعلقات کو نئی جہت دے سکتا ہے بلکہ آر-4 گروپ کے پلیٹ فارم کے ذریعے مسلم دنیا کے اہم ممالک کے درمیان سفارتی ہم آہنگی کو بھی مزید تقویت ملنے کی توقع ہے۔
خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں قاہرہ میں ہونے والا یہ اجلاس مستقبل کی علاقائی سفارت کاری اور مسلم دنیا کے مشترکہ مؤقف کی تشکیل میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ پاکستان کی فعال سفارتی پالیسی ایک مرتبہ پھر عالمی اور علاقائی سطح پر نمایاں ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
