امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ حالیہ معاہدے پر اسرائیلی حلقوں کی تنقید کا سخت جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت پوری دنیا میں اسرائیل کے واحد طاقتور اتحادی ہیں، اس لیے اسرائیلی قیادت کو واشنگٹن کے خلاف محاذ آرائی سے گریز کرنا چاہیے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے ان رپورٹس پر تبصرہ کیا جن میں کہا گیا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کی کابینہ کے بعض ارکان ایران معاہدے پر شدید ناراض ہیں۔ نائب صدر نے کہا کہ انہوں نے ذاتی طور پر نیتن یاہو سے ایسے بیانات نہیں سنے، تاہم اسرائیلی کابینہ کے بعض ارکان کی جانب سے معاہدے اور صدر ٹرمپ پر تنقید کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر وہ اسرائیلی کابینہ کا حصہ ہوتے تو دنیا میں موجود اپنے واحد طاقتور اتحادی پر حملہ نہ کرتے۔ وینس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ وہ واحد عالمی رہنما ہیں جو اسرائیل کے ساتھ مکمل ہمدردی رکھتے ہیں۔
امریکی نائب صدر نے اسرائیل کو فراہم کی جانے والی امریکی فوجی امداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے دفاع میں استعمال ہونے والے دو تہائی ہتھیار امریکی ساختہ ہیں اور ان کی مالی معاونت امریکی ٹیکس دہندگان کرتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ امریکہ اسرائیل کو سالانہ تقریباً چار ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ دونوں ممالک ایک نئے دفاعی امدادی معاہدے پر بھی بات چیت کر رہے ہیں۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ اسرائیل کا اصل مسئلہ ڈونلڈ ٹرمپ نہیں ہیں، اور جو لوگ ایسا سمجھتے ہیں انہیں زمینی حقائق کا ادراک کرنا چاہیے۔
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ معاہدے کو بعض اسرائیلی اور امریکی ناقدین نے اس بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ اس میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرنے یا اس کی جوہری تنصیبات کے مکمل خاتمے کے لیے واضح لائحہ عمل شامل نہیں ہے۔ ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس معاہدے نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔
واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ کے دوران عالمی منڈیوں اور تیل کی ترسیل پر بھی اثرات مرتب ہوئے تھے، جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش نے توانائی کی عالمی سپلائی کو شدید متاثر کیا تھا۔ ایسے میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
