چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ چین اور شمالی کوریا کو اپنے اسٹریٹیجک تعاون کو مزید مضبوط بناتے ہوئے خودمختاری، سلامتی اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے قریبی روابط برقرار رکھنے چاہییں۔
چینی میڈیا کے مطابق صدر شی جن پنگ شمالی کوریا کے دورے پر پیانگ یانگ پہنچے، جہاں ان کا استقبال اعلیٰ حکومتی شخصیات نے کیا۔ دورے کے دوران ان کی شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے ملاقات ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے وفود نے بھی شرکت کی۔
ملاقات کے دوران فریقین نے تجارت، زراعت، تعمیرات، ٹیکنالوجی اور دیگر اہم شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال، اقتصادی ترقی اور باہمی مفادات سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
صدر شی جن پنگ نے اس موقع پر کہا کہ چین اور شمالی کوریا کو اپنی تاریخی دوستی اور اسٹریٹیجک شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو باہمی اعتماد میں اضافہ کرتے ہوئے اپنی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کا بھرپور تحفظ کرنا ہوگا۔
اس موقع پر کم جونگ اُن نے کہا کہ شمالی کوریا اور چین کے تعلقات مضبوط، تاریخی اور ناقابلِ شکست ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔
شمالی کوریا کے رہنما نے مزید کہا کہ چین کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنا پیانگ یانگ کی خارجہ پالیسی کا ایک مستقل اور ناقابلِ تبدیل اسٹریٹیجک انتخاب ہے، جو دونوں ممالک کے عوام کے مشترکہ مفادات اور علاقائی استحکام کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔
