واشنگٹن: امریکی وفاقی حکام نے 13 انٹرنیٹ ڈومینز ضبط کر لیے ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ چینی انٹیلی جنس کے لیے معلومات اکٹھی کرنے والے ایک مبینہ نیٹ ورک سے منسلک تھے۔
محکمہ انصاف نے اپنے بیان میں کہا کہ ان جعلی اداروں نے مشاورت اور تجزیہ کار کے عہدوں کے نام پر ملازمت کے اشتہارات جاری کیے، جن کے ذریعے درخواست دہندگان کو بھرتی کیا جاتا اور بعد ازاں ان پر خفیہ یا خصوصی معلومات فراہم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا تھا۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق یہ ویب سائٹس بظاہر مشاورتی اور تجزیاتی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے طور پر کام کر رہی تھیں، تاہم ان کا اصل مقصد موجودہ اور سابق امریکی سرکاری و فوجی اہلکاروں کو ملازمتوں کی پیشکش کے ذریعے نشانہ بنانا اور ان سے حساس یا اندرونی معلومات حاصل کرنا تھا۔
امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں تعینات ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی امریکی اٹارنی جینین پیرو نے کہا کہ ان کارروائیوں کا مقصد یہ واضح پیغام دینا ہے کہ قومی سلامتی سے متعلق حساس معلومات تک رسائی رکھنے والے افراد کے استحصال کی ہر کوشش کو بے نقاب اور ناکام بنایا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ، برطانیہ اور فائیو آئیز انٹیلی جنس اتحاد کے دیگر رکن ممالک نے حال ہی میں خبردار کیا تھا کہ چین مبینہ طور پر آن لائن جاب پلیٹ فارمز اور پیشہ ورانہ نیٹ ورکس کو استعمال کرتے ہوئے سرکاری اور عسکری پس منظر رکھنے والے افراد کو معلومات کے حصول کے لیے ہدف بنا رہا ہے۔
دوسری جانب واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد "چینی جاسوسی خطرہ” مکمل طور پر من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی الزام ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بیجنگ ان دعوؤں کی سخت مذمت کرتا ہے۔
