برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں سرگرم اسرائیلی آبادکاروں کی مالی معاونت کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ برطانوی حکومت کے مطابق یہ اقدام کینیڈا، فرانس اور ناروے کے اشتراک سے کیا گیا ہے، جس کا مقصد پُرتشدد آبادکار گروپوں کی مالی مدد روکنا اور خطے میں کشیدگی کم کرنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق برطانوی حکومت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی آبادکاروں کی توسیع اور بعض گروپوں کا پُرتشدد رویہ بین الاقوامی قانون کے منافی سمجھا جاتا ہے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بستیوں کی مسلسل توسیع دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ پابندیوں کا ہدف ایسے افراد اور نیٹ ورکس ہیں جو مغربی کنارے میں آبادکاروں کی سرگرمیوں اور ان کے مبینہ تشدد کی مالی معاونت کر رہے ہیں۔ حکومت کے مطابق یہ مشترکہ بین الاقوامی اقدام خطے میں امن و استحکام کے فروغ اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کی کوششوں کا حصہ ہے۔
برطانیہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے میں آبادکاری کی توسیع کو روکے، فلسطینی شہریوں کے خلاف تشدد میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی کرے اور فلسطینی علاقوں میں اقتصادی سرگرمیوں پر عائد پابندیوں میں نرمی لائے۔
مبصرین کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب متعدد مغربی ممالک مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فلسطینی شہریوں پر حملوں کے واقعات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے اس نوعیت کے اقدامات خطے میں امن عمل اور دو ریاستی حل کی حمایت کے تناظر میں اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
