امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) سے جاری بیان کے مطابق 9 جون کی شب امریکی افواج نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو ناکارہ بنایا جو امریکی دعوے کے مطابق ایران سے تیل کی ترسیل کے لیے نافذ کردہ ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سفر کر رہا تھا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جہاز کے عملے کو متعدد مرتبہ ہدایات جاری کی گئیں، تاہم مبینہ طور پر ان پر عمل نہ کیے جانے کے بعد ایک امریکی طیارے نے درست نشانے والے ہتھیاروں کے ذریعے ٹینکر کے انجن روم کو نشانہ بنایا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ 13 اپریل کو ناکہ بندی کے آغاز کے بعد سے امریکی افواج آٹھ ایسے جہازوں کو ناکارہ بنا چکی ہیں، جبکہ 134 بحری جہازوں کو اپنا راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق انسانی امداد کی ترسیل میں مصروف 42 جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی۔
دوسری جانب اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر نئی سفارتی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے نئی دہلی میں امریکی مشن کے نائب سربراہ کو طلب کرکے واقعے پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق حملے کے وقت آئل ٹینکر پر 28 افراد پر مشتمل عملہ موجود تھا جن میں 24 بھارتی شہری شامل تھے۔ واقعے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا جبکہ تین بھارتی ملاح تاحال لاپتا ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ لاپتا ملاحوں کی تلاش جاری ہے جبکہ 21 بھارتی شہریوں کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے۔
قبل ازیں میری ٹائم سکیورٹی ذرائع نے اطلاع دی تھی کہ عمان کے ساحل کے قریب آئل ٹینکر میں لگنے والی آگ ممکنہ طور پر امریکی میزائل حملے کا نتیجہ تھی۔ بحری حکام کے مطابق آئل مصنوعات لے جانے والے جہاز کے انجن روم میں آگ بھڑک اٹھی جس کے باعث جانی نقصان بھی ہوا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجِ عمان اور آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی عالمی توانائی کی ترسیل، سمندری تجارت اور علاقائی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج بن سکتی ہے۔ حالیہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ پہلے ہی عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
