امریکا میں امیگریشن پالیسی اور بارڈر سیکیورٹی کے لیے ایک بڑے مالیاتی بل پر قانون سازی کا عمل آگے بڑھ گیا ہے، جہاں امریکی ایوانِ نمائندگان نے 70 ارب ڈالر کے امیگریشن انفورسمنٹ بل پر بحث شروع کرنے کے لیے پارٹی لائنز پر ووٹ دیا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت یافتہ اس قانون سازی کو امریکی کانگریس میں اہم سیاسی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ توقع ہے کہ ایوانِ نمائندگان اس بل کو منظوری کے لیے آج بعد میں ووٹ دے گا، جس کے بعد اسے حتمی دستخط کے لیے وائٹ ہاؤس بھیجا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی سینیٹ پہلے ہی پارٹی بنیادوں پر اس بل کی منظوری دے چکی ہے، جس سے یہ قانون سازی ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔
مجوزہ قانون کے تحت یہ فنڈنگ آئندہ تین برسوں کے لیے U.S. Immigration and Customs Enforcement اور بارڈر پیٹرول کو فراہم کی جائے گی، جس کا مقصد امریکی سرحدی نگرانی اور امیگریشن قوانین کے نفاذ کو مضبوط بنانا ہے۔
ڈیموکریٹک ارکان نے اس بل کی مخالفت اس وقت تیز کر دی تھی جب جنوری میں منیاپولس میں ایجنٹس کے ہاتھوں دو امریکی شہریوں کی ہلاکت کا واقعہ پیش آیا۔ اس کے بعد امیگریشن فنڈنگ کے معاملے پر شدید سیاسی تعطل پیدا ہوا، جس نے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی مالیاتی سرگرمیوں کو بھی متاثر کیا۔
اس تعطل کے دوران ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی لائنوں میں اضافہ دیکھا گیا اور مختلف وفاقی اداروں کی کارکردگی متاثر ہوئی، تاہم اپریل میں قانون سازوں نے محکمہ کے کچھ حصوں کی فنڈنگ بحال کر دی تھی۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے اس بل کی حمایت کرتے ہوئے بارہا ریپبلکن قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ امیگریشن انفورسمنٹ کے لیے مضبوط فنڈنگ کو یقینی بنائیں۔ تاہم بل سے بعض متنازعہ شقیں، جن میں وائٹ ہاؤس کے بال روم کی سیکیورٹی کے لیے 1 ارب ڈالر کی تجویز شامل تھی، حذف کر دی گئی ہیں۔
اسی طرح "اینٹی ویپنائزیشن فنڈ” سے متعلق ترامیم کو بھی مسترد کر دیا گیا ہے، جبکہ حکومتی مؤقف ہے کہ اس قانون سازی کا مقصد صرف امیگریشن نفاذ اور سرحدی سیکیورٹی کو مضبوط بنانا ہے۔
