اسلام آباد: انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریجنل اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (IIRIS)، انڈونیشین کارنر، جمہوریہ انڈونیشیا کے سفارت خانے اور ویمن یونیورسٹی مردان کے اشتراک سے "آسیان اور پاکستان کو جوڑنے کے لیے شاہراہِ ریشم کی بحالی: تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا” کے عنوان سے ایک بین الاقوامی سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں علاقائی روابط، اقتصادی تعاون اور تعلیمی شراکت داری کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔
سیمینار میں سفارت کاروں، ارکان پارلیمنٹ، ماہرین تعلیم، محققین، طلبہ اور پالیسی ماہرین نے شرکت کی اور پاکستان اور آسیان ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت، ثقافتی روابط اور تعلیمی تعاون کے فروغ کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
تقریب کا افتتاح IIRIS کے صدر شفقت رسول نے کیا۔ انہوں نے اپنے خیرمقدمی خطاب میں کہا کہ آسیان دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی علاقائی تنظیموں میں شامل ہے اور پاکستان کے لیے جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔
انہوں نے فلپائن میں ہونے والے آئندہ آسیان سربراہی اجلاس کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی جغرافیائی سیاسی حالات پاکستان کے لیے آسیان کے رکن ممالک کے ساتھ تجارت، سیاحت، سرمایہ کاری، تعلیم اور عوامی روابط کو مضبوط بنانے کے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شاہراہِ ریشم کی تاریخی اہمیت کو جدید تقاضوں کے مطابق دوبارہ فعال بنانا علاقائی خوشحالی اور پائیدار ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے۔
قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ سلیمان نے کلیدی خطاب میں کہا کہ مؤثر علاقائی روابط کے لیے صرف اقتصادی پالیسیاں کافی نہیں بلکہ مضبوط سیاسی عزم، مؤثر قیادت اور پائیدار ادارہ جاتی تعاون بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے پالیسی سازی میں جامعات اور تحقیقی اداروں کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔
مہمانِ خصوصی اور رکن قومی اسمبلی مولانا ناظم علی شاہ نے پاکستان اور آسیان ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی سفارت کاری علاقائی تعاون، اقتصادی ترقی اور پائیدار شراکت داری کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے آسیان ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
انڈونیشیا کے سفارت خانے کی نمائندگی کرتے ہوئے رحمت ہندیارتا، منسٹر کونسلر و کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات، سماجی و ثقافتی امور، نے کہا کہ انڈونیشیا پاکستان کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت، تعلیم، ثقافتی تبادلوں اور علاقائی مکالمے کے فروغ کے لیے اپنے تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے پاکستان اور آسیان کے درمیان بہتر روابط کے لیے انڈونیشیا کی مکمل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔
ویمن یونیورسٹی مردان کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ جامعات تحقیق، جدت، کاروباری صلاحیتوں اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں اور یہی ادارے مستقبل کی قیادت تیار کرنے کے لیے بنیادی پلیٹ فارم ہیں۔
سیمینار میں پاکستان میں تعینات مختلف ممالک کے سفارتی نمائندوں نے بھی شرکت کی، جن میں پاکستان میں سری لنکا کے ہائی کمشنر ایڈمرل (ر) رویندر چندر سری وجیگونارتنے، ماریشس کے سفیر منسو کرمباکس، ماریشس کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن آر اے ایل سیوٹوہول اور ویتنام کے سفارت خانے کے نمائندے شامل تھے۔ ان کی شرکت پاکستان اور آسیان ممالک کے درمیان کثیرالجہتی تعاون میں بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی کی عکاسی کرتی ہے۔
مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ شاہراہِ ریشم کی بحالی صرف تاریخی ورثے کی یاد تازہ کرنے تک محدود نہیں بلکہ اسے تجارت، سرمایہ کاری، پائیدار سیاحت، ثقافتی سفارت کاری اور تعلیمی تعاون کے فروغ کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ حکومتوں، جامعات، کاروباری اداروں اور سول سوسائٹی کے درمیان قریبی تعاون کے ذریعے پاکستان اور آسیان ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ IIRIS نے بھی بین الاقوامی مکالمے، شواہد پر مبنی پالیسی تحقیق اور تعلیمی سفارت کاری کے فروغ کے لیے ایسے پلیٹ فارمز کی فراہمی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

