کولکتہ: بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں واقع تاریخی آدینہ مسجد ایک نئے تنازع کا مرکز بن گئی ہے، جہاں ایک انتہا پسند ہندوتوا تنظیم نے مسجد کے باہر شیو لنگ نصب کرنے اور مذہبی رسومات ادا کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ مہم مقامی انتہا پسند ہندوتوا تنظیم آدیناتھ پراتن شیو مندر کی جانب سے چلائی جا رہی ہے، جبکہ اس سے وابستہ ایک مقامی بی جے پی رہنما نے بھی اس اقدام کی حمایت کی ہے۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ آدینہ مسجد ایک قدیم شیو مندر کی جگہ پر تعمیر کی گئی تھی، تاہم اس دعوے کی عدالتی سطح پر حتمی تصدیق نہیں ہوئی۔
دوسری جانب آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) اور مقامی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ آدینہ مسجد قومی اہمیت کی محفوظ تاریخی یادگار ہے اور اس کے محفوظ احاطے کے اندر کسی بھی نئی مذہبی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکام نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی سخت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
آدینہ مسجد 1373ء میں بنگال سلطنت کے سلطان سکندر شاہ کے دور میں تعمیر کی گئی تھی اور اسے برصغیر کی قدیم اور تاریخی مساجد میں شمار کیا جاتا ہے۔ حالیہ پیش رفت کے بعد ایک بار پھر اس تاریخی مقام کے حوالے سے سیاسی اور مذہبی بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔

