لبنان کے صدر جوزف عون نے امریکی نشریاتی ادارے CNN کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے حوالے سے ایک غیر معمولی اور اہم موقف اختیار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں خطے میں فوجی حل کسی بھی صورت میں پائیدار نہیں ہو سکتا اور اس کے اثرات براہِ راست شمالی اسرائیل اور لبنان دونوں کے شہریوں پر پڑ رہے ہیں۔
صدر جوزف عون نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ وہ اس وقت تک اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے براہِ راست ملاقات نہیں کریں گے جب تک کسی ممکنہ معاہدے یا فریم ورک پر باقاعدہ اتفاق اور دستخط نہ ہو جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریق جنگی راستے کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دیں، کیونکہ مسلسل کشیدگی عام شہریوں کی زندگیوں کو شدید متاثر کر رہی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال پہلے ہی انتہائی حساس اور غیر مستحکم ہے۔
