ایران میں حکومت مخالف مظاہروں سے متعلق مقدمے میں سزا پانے والے دو افراد کو منگل کے روز سرِعام پھانسی دے دی گئی۔ ایرانی عدلیہ کے مطابق دونوں افراد کو پولیس اہلکاروں کے قتل اور دیگر سنگین جرائم کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔
ایرانی عدلیہ کی آن لائن ویب سائٹ میزان کے مطابق ابوالفضل سپاہی اور امیر حسین سفاری کی سزائے موت پر منگل کی صبح عمل درآمد کیا گیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق یہ پھانسی وسطی صوبہ اصفہان کے شہر ملک شہر کے ایک عوامی چوک میں دی گئی، جہاں متعدد افراد موجود تھے۔
عدالتی بیان کے مطابق دونوں افراد کو آٹھ جنوری کو پولیس اہلکاروں پر چاقو اور خنجر سے حملہ کرنے، انہیں سڑک کنارے نصب اشاروں سے باندھنے، زمین پر گھسیٹنے اور بعد ازاں ان پر پٹرول چھڑک کر آگ لگانے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔
میزان کے مطابق دونوں ملزمان پر "محاربہ” (خدا کے خلاف جنگ) کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا، جس کے بارے میں عدلیہ کا کہنا ہے کہ اس سے ملک کے امنِ عامہ اور قومی سلامتی کو شدید نقصان پہنچا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران میں حالیہ مہینوں کے دوران حکومت مخالف مظاہروں سے متعلق مقدمات میں سزاؤں پر عمل درآمد کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سے قبل 19 جولائی کو بھی صوبہ اصفہان میں اسی نوعیت کے الزامات کے تحت دو دیگر افراد کو پھانسی دی گئی تھی۔

