Table of Contents
قاہرہ: چینی صدر شی جنپنگ نے مشرق وسطیٰ کے ممالک پر اہم زور دیا ہے۔
انہوں نے خطے کے لیے نیا سیکیورٹی نظام تشکیل دینے کی تجویز دی ہے۔
شی جنپنگ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنے مستقبل کے فیصلے خود کریں۔
انہوں نے خطے کے معاملات میں بیرونی مداخلت مسترد کرنے پر بھی زور دیا۔
بیرونی مداخلت اور طاقت کے استعمال کی مخالفت
چینی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق شی جنپنگ نے یہ بات قاہرہ میں کہی۔
وہ اپنے مصری ہم منصب عبدالفتاح السیسی کے ساتھ اعلیٰ سطح کے مذاکرات کر رہے تھے۔
ملاقات کے دوران چینی صدر نے خطے میں طاقت کے استعمال کی مخالفت کی۔
انہوں نے غنڈہ گردی اور جانبداری سے بھی گریز پر زور دیا۔
شی جنپنگ کے مطابق مشرق وسطیٰ کو مشترکہ سلامتی کے لیے جامع حل کی ضرورت ہے۔
مسئلہ فلسطین کو نظرانداز نہ کیا جائے
چینی صدر نے مسئلہ فلسطین کو بھی اہم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ مشرق وسطیٰ کے تنازع کا بنیادی مرکز ہے۔
ان کے مطابق اس مسئلے کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
شی جنپنگ نے اقوام متحدہ کے مؤثر کردار کی حمایت بھی کی۔
انہوں نے عالمی طاقتوں سے دہرے معیار ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
ان کے مطابق بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کا یکساں اطلاق ضروری ہے۔
مشرق وسطیٰ کے لیے چار نکاتی تجویز
شی جنپنگ نے خطے میں سیکیورٹی کے نئے ڈھانچے کے لیے چار نکاتی تجویز پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک اپنی داخلی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں۔
ممالک کو سیکیورٹی مسائل سے نمٹنے کے لیے جامع طریقہ کار اپنانا چاہیے۔
انہوں نے اقتصادی اور ترقیاتی بنیادیں مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔
اس مقصد کے لیے عالمی سطح پر رابطے اور تعاون بڑھانے کی تجویز دی گئی۔
آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی اہم قرار
مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز بھی اہم معاملہ بن چکی ہے۔
شی جنپنگ نے بین الاقوامی بحری راستوں کی سیکیورٹی کی اہمیت اجاگر کی۔
انہوں نے کہا کہ چین خطے کے ممالک کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔
چین بین الاقوامی بحری راستوں کی سلامتی یقینی بنانے میں کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی اور تیل کی ترسیل کے لیے اہم راستہ ہے۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی نے اس بحری راستے سے متعلق خدشات میں اضافہ کیا ہے۔
چین اور مصر کے تعلقات
شی جنپنگ کا موجودہ دورہ مصر بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
دونوں ممالک اقتصادی، سفارتی اور دفاعی تعاون بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
چین اور مصر نے کئی شعبوں میں تعاون کو وسعت دی ہے۔
ان شعبوں میں انفرااسٹرکچر، توانائی اور مینوفیکچرنگ شامل ہیں۔
ٹرانسپورٹ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی دونوں ممالک کے روابط بڑھے ہیں۔
مصر کی جغرافیائی اہمیت
مصر خطے میں اہم جغرافیائی اور تجارتی مقام رکھتا ہے۔
ملک بحیرۂ احمر اور نہر سویز کے ذریعے عالمی تجارتی راستوں سے جڑا ہے۔
نہر سویز عالمی تجارت کے لیے ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے۔
اسی وجہ سے مصر چین کے لیے بھی اہم شراکت دار ہے۔
چین اور مصر کے سفارتی تعلقات
چین اور مصر نے 1956 میں سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔
دونوں ممالک کے سفارتی روابط کو کئی دہائیاں مکمل ہوچکی ہیں۔
2014 میں دونوں ملکوں نے اپنے تعلقات کو جامع اسٹریٹجک شراکت داری تک بڑھایا۔
حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں تعاون مزید مضبوط کیا ہے۔
شی جنپنگ کے دورے سے دوطرفہ تعلقات میں مزید پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔
