قطری حکومت نے اسرائیلی میڈیا میں شائع ہونے والی ان خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ قطر نے ایران کےخلاف فوجی کارروائی میں شرکت پر آمادگی ظاہر کی تھی۔
قطر کے انٹرنیشنل میڈیا آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایسے الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کا مقصد قطر کو جاری علاقائی تنازع میں گھسیٹنا ہے۔
بیان کے مطابق ان دعوؤں کے ذریعے قطر کے اس اہم کردار کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو وہ ایک غیرجانبدار ثالث اور مصالحت کار کی حیثیت سے خطے میں ادا کر رہا ہے۔ قطری حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کی غلط معلومات سے نہ صرف سفارتی کوششیں متاثر ہوتی ہیں بلکہ خطے میں مزید کشیدگی اور عدم استحکام بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
قطر نے واضح کیا کہ وہ پہلے بھی متعدد بار اس مؤقف کا اعادہ کر چکا ہے کہ اس نے اپنے کسی ہمسایہ ملک کے خلاف کسی فوجی کارروائی میں نہ کبھی حصہ لیا ہے اور نہ ہی مستقبل میں ایسی کسی کارروائی کا حصہ بنے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ قطر اپنی مصالحانہ اور سفارتی کوششوں کو کسی بھی قسم کے بے بنیاد الزامات یا گمراہ کن اطلاعات سے متاثر نہیں ہونے دے گا۔ ان کوششوں کا بنیادی مقصد خطے میں جاری تنازعات کا پرامن حل تلاش کرنا، کشیدگی میں کمی لانا اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔
قطری حکومت نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ تنازعات کے حل کے لیے سفارتی ذرائع اور مکالمے کی حمایت جاری رکھے گی اور علاقائی امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

