کیف/ماسکو: روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں ایک بار پھر شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر طویل فاصلے تک حملے کیے، جن کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
روسی حکام کے مطابق اتوار کو یوکرین کے ڈرون حملوں میں روس کے مختلف علاقوں میں کم از کم 9 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ یوکرینی حکام نے بتایا کہ روسی فضائی حملوں میں کم از کم 5 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم میدان جنگ میں کشیدگی بدستور بڑھ رہی ہے۔
روس کے سرحدی علاقے بیلگوروڈ کے قائم مقام گورنر نے بتایا کہ یوکرینی ڈرون حملے میں کھیل کے میدان کے قریب 13 سالہ بچی سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے۔ ان کے مطابق امدادی ٹیموں نے بچی کی جان بچانے کی بھرپور کوشش کی، تاہم وہ شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔
اسی دوران ساراتوف کے علاقے میں ایک الگ ڈرون حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اُدمرتیا میں ایک شہری گاڑی کو نشانہ بنانے والے حملے میں تین افراد جان سے گئے۔
دوسری جانب یوکرین کے حکام کا کہنا ہے کہ روسی فضائی حملوں میں دنیپروپیٹروسک، زاپوریزہیا اور خیرسون کے علاقوں میں کم از کم چار شہری ہلاک ہوئے، جبکہ خارکیف کے قریب ایک پوسٹل ٹرمینل پر حملے میں ایک ڈاک ملازم بھی مارا گیا۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال یوکرین میں شہری ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ روس کی جانب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرون حملوں کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔
روسی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس کی فضائی دفاعی فورسز نے رات بھر میں 635 یوکرینی ڈرون مار گرائے، جن میں مقبوضہ کریمیا، بحیرہ اسود اور بحیرہ آزوف کے اوپر پرواز کرنے والے ڈرون بھی شامل تھے۔
ادھر یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس نے رات کے دوران 133 ڈرون یوکرین کی جانب بھیجے، جن میں سے 24 اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، جبکہ متعدد ڈرون فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیے۔
یوکرینی حملوں میں روس کی معروف ای کامرس کمپنی وائلڈ بیریز (Wildberries) کے ایک اور گودام کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں آگ بھڑک اٹھی، تاہم حکام کے مطابق اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
امریکا کی قیادت میں جنگ بندی اور امن مذاکرات کی کوششیں اگرچہ جاری ہیں، لیکن دونوں ممالک کی جانب سے حالیہ حملوں نے واضح کر دیا ہے کہ تنازع اب بھی شدت اختیار کیے ہوئے ہے، جبکہ دونوں فریق بدستور شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے الزامات ایک دوسرے پر عائد کر رہے ہیں۔
