تہران: مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی فوج نے ایران پر مسلسل نویں رات بھی حملے کیے، جبکہ ایران نے نئے میزائل حملوں اور مختلف فوجی کارروائیوں کے دعوے کیے ہیں، جس سے پورے خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق امریکی حملوں میں ایران کے تبریز، چابہار، سیرک، ہرمزگان، بوشہر اور کونارک کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں سے ہونے والے نقصانات یا جانی نقصان کی فوری تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
دوسری جانب ایران نے اعلان کیا کہ اس نے دشمن کے اہداف کی جانب مزید میزائل داغ دیے ہیں، جبکہ کویت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے دفاعی نظام نے اپنے فضائی حدود کی جانب آنے والے حملوں کو ناکام بنا دیا۔
ادھر برطانوی میری ٹائم ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ عمان کے علاقے کُمزار کے قریب ایک جہاز میں آگ بھڑک اٹھی ہے، تاہم آگ لگنے کی وجوہات فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکیں۔
بحرین میں بھی خطرے کے سائرن بجائے گئے، جبکہ امریکی سفارت خانے نے دارالحکومت منامہ میں موجود اپنے شہریوں کو ممکنہ ایرانی حملوں کے پیش نظر محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو تیل بردار ٹینکروں کو دھماکے سے تباہ کر دیا گیا۔ پاسداران کے مطابق جب تک خطے میں امریکی فوجی سرگرمیاں جاری رہیں گی، آبنائے ہرمز کو محفوظ گزرگاہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
پاسدارانِ انقلاب نے مزید دعویٰ کیا کہ اردن کے عقبہ ہوائی اڈے پر موجود امریکی طیاروں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جبکہ شام کے علاقے التنف میں دشمن کے ایک کمانڈ سینٹر پر بھی حملہ کیا گیا۔
ایرانی بیان میں کہا گیا کہ التنف میں کارروائی ایران کے شہید فوجیوں کے خون کا بدلہ ہے۔
تاحال امریکا، بحرین، اردن یا دیگر متعلقہ حکام کی جانب سے ایران کے ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق یا مکمل ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ خطے کی صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔

