قاہرہ: مصر کے صدر اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر عبدالفتاح السیسی نے ملک کے نئے اسٹریٹجک فوجی ہیڈکوارٹر "آکٹاگون” (Octagon) کا باضابطہ افتتاح کر دیا، جسے دنیا کے سب سے بڑے مکمل تعمیر شدہ فوجی اور قومی سلامتی کے مراکز میں شمار کیا جا رہا ہے۔
یہ جدید دفاعی کمپلیکس مصر کے نئے انتظامی دارالحکومت (New Administrative Capital) میں تعمیر کیا گیا ہے، جو قاہرہ سے تقریباً 45 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔ منصوبہ آٹھ باہم منسلک عمارتوں پر مشتمل ہے، جس کی وجہ سے اسے "آکٹاگون” کا نام دیا گیا ہے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا کہ یہ منصوبہ مصر کی دفاعی صلاحیت، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور فوجی آپریشنز کی نگرانی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس یہ مرکز مستقبل کے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے، تیز رفتار فیصلہ سازی اور مؤثر عسکری رابطوں کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
جدید دفاعی ٹیکنالوجی سے آراستہ مرکز
مصری حکام کے مطابق آکٹاگون کا مجموعی قابلِ استعمال رقبہ تقریباً 47 لاکھ مربع میٹر ہے، جبکہ یہ منصوبہ 22 ہزار ایکڑ اراضی پر قائم کیا گیا ہے، جس کی بنیاد پر اسے دنیا کے بڑے فوجی ہیڈکوارٹرز میں شمار کیا جا رہا ہے۔
حکام نے بتایا کہ اس دفاعی مرکز میں:
- کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم
- جدید مواصلاتی نیٹ ورک
- انٹیلی جنس اور نگرانی کے مراکز
- مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی دفاعی نظام
- فوجی آپریشنز کی ریئل ٹائم نگرانی
کو ایک ہی پلیٹ فارم پر مربوط کیا گیا ہے تاکہ دفاعی فیصلوں اور آپریشنل صلاحیت کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا دفاعی کمپلیکس
مصری حکومت کے مطابق آکٹاگون نہ صرف مصر بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا جدید فوجی ہیڈکوارٹر ہوگا، تاہم منصوبے پر آنے والی مجموعی لاگت سے متعلق کوئی سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے مصر کی قومی سلامتی، دفاعی منصوبہ بندی، مشترکہ فوجی کمانڈ اور جدید عسکری انفراسٹرکچر کو مزید تقویت ملے گی، جبکہ علاقائی سطح پر مصر کی اسٹریٹجک اہمیت بھی مزید نمایاں ہوگی۔
