رپورٹ: سید فرزند علی
لاہور: لاہور میں اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصل جنرل مہران موحد فر نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے خاتمے اور جنگ بندی کے قیام میں پاکستان نے ایک قابلِ فخر اور تعمیری سفارتی کردار ادا کیا، جسے ایران سمیت عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔
یونیورسٹی آف ساؤتھ ایشیا میں "مغربی ایشیا کی ترقی اور علاقائی امن میں پاکستان کا کردار” کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جنگ بندی کی کوششوں میں مؤثر کردار ادا کیا، جس پر ایران پاکستانی حکومت اور عوام کا شکر گزار ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں امن کے فروغ اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک تاریخی ذمہ داری نبھائی، جس کا احترام ایران کرتا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں پائیدار امن اور مشترکہ سیکیورٹی صرف علاقائی ممالک کے باہمی تعاون سے ممکن ہے، جبکہ بیرونی مداخلت مسائل کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔
مہران موحد فر نے کہا کہ مغربی ایشیا میں دیرپا امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مسئلہ فلسطین کا منصفانہ اور مستقل حل تلاش نہیں کیا جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کے حقوق کا تحفظ خطے کے امن و استحکام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
ایرانی قونصل جنرل نے ایران پر عائد یکطرفہ پابندیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کسی قوم پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے والے ممالک کو انسانی حقوق کے نام پر سیاسی دباؤ ڈالنے سے گریز کرنا چاہیے۔
انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران این پی ٹی (NPT) کے تحت پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کا قانونی حق رکھتا ہے اور اس حق کے استعمال کے لیے کسی بیرونی توثیق کا محتاج نہیں۔
خطاب کے دوران انہوں نے ایران میں حالیہ جنگ کے دوران ہونے والے جانی و مالی نقصانات کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ مختلف حملوں میں متعدد تعلیمی ادارے، اسپتال، عجائب گھر، تاریخی عمارتیں اور عوامی تنصیبات متاثر ہوئیں۔ انہوں نے میناب کے ایک اسکول پر حملے میں بچوں کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول سانحے کو بھی یاد کیا اور دونوں واقعات کو انسانیت کے لیے المیہ قرار دیا۔
مہران موحد فر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران خطے کے تمام اسلامی ممالک کے ساتھ دوستانہ، پائیدار اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے اور علاقائی تعاون ہی مستقبل میں امن، استحکام اور ترقی کی ضمانت ہے۔
