وزیراعظم محمد شہباز شریف اور سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کے درمیان ٹیلیفونک رابطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی عمل کو کامیابی سے آگے بڑھانے اور باقی ماندہ تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے اگلے مرحلے کو خوش اسلوبی سے مکمل کرنا انتہائی ضروری ہے اور کسی بھی ایسے اقدام پر کڑی نظر رکھی جائے جو اس عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرے۔
گفتگو کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے شہزادہ محمد بن سلمان کو تاریخی "اسلام آباد امن معاہدے” پر دستخط ہونے پر مبارکباد پیش کی اور خطے میں قیامِ امن کے لیے سعودی عرب کی مستقل حمایت اور تعمیری کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کی بھرپور حمایت کے باعث چند ماہ کے اندر ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ ممکن ہو سکا۔
بیان کے مطابق وزیراعظم نے اس بحران کے دوران سعودی قیادت کی دانشمندانہ حکمت عملی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی امن کوششوں کو سعودی عرب کی غیر متزلزل حمایت حاصل رہی ہے۔
دوسری جانب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے وزیراعظم شہباز شریف کو معاہدے پر مبارکباد دیتے ہوئے پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کو سراہا، جنہوں نے امن عمل کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ مرحلے میں سفارت کاری اور بات چیت ہی مسائل کا مؤثر حل ہیں اور خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے تمام فریقوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے دوطرفہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سرپرستی میں مجوزہ جامع اقتصادی پیکیج کو حتمی شکل دینے اور اس پر دستخط کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے سعودی ولی عہد کو مناسب وقت پر پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دہرائی۔
وزیراعظم نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا، جبکہ دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں قریبی مشاورت اور مسلسل رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
