واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی کو کسی بھی عبوری معاہدے پر دستخط سے مشروط کر دیا ہے۔ اس پیش رفت نے دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی کوششوں میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر دی ہے۔
عرب میڈیا کو ذرائع نے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ثالثی کرنے والے ممالک اور سفارتی چینلز کو واضح پیغام دیا ہے کہ ایران کے منجمد فنڈز کی جزوی یا مکمل رہائی اس وقت تک ممکن نہیں ہوگی جب تک تہران اور واشنگٹن کے درمیان مجوزہ عبوری معاہدہ باضابطہ طور پر طے نہیں پا جاتا۔
ذرائع کے مطابق امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ مالی رعایتوں اور اقتصادی سہولتوں کی فراہمی سے قبل معاہدے کو حتمی شکل دینا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں اس پر عملدرآمد کی ضمانت حاصل کی جا سکے۔ اطلاعات کے مطابق منجمد ایرانی اثاثوں کے استعمال کے حوالے سے مختلف تجاویز زیر غور ہیں، جن میں ایک خصوصی فنڈ کے قیام کا منصوبہ بھی شامل ہے جس کے ذریعے رقوم کے استعمال اور نگرانی کا طریقہ کار طے کیا جا سکے گا۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ رابطوں اور سفارتی کوششوں کے باوجود کوئی نمایاں یا ٹھوس پیش رفت حاصل نہیں ہوئی۔ ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق عراقچی کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات بدستور برقرار ہیں اور ابھی کسی حتمی نتیجے تک پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔
عباس عراقچی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے نتائج رواں ہفتے کے اختتام تک سامنے آ سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے مذاکرات کو "بہت اچھا” قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، اگرچہ انہوں نے اس امکان کو بھی مسترد نہیں کیا کہ مذاکرات ناکام ہو سکتے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی واضح کیا ہے کہ ایران کے اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کا معاملہ مذاکرات کا مرکزی نکتہ بنا ہوا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ٹھوس ضمانتیں چاہتا ہے، جبکہ تہران اب تک کسی حتمی امن معاہدے پر آمادگی ظاہر نہیں کر سکا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذاکراتی عمل اس وقت ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں ایک جانب سفارتی حل کی امید موجود ہے، جبکہ دوسری جانب حالیہ عسکری کشیدگی، آبنائے ہرمز میں تناؤ اور خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کسی بھی معاہدے کے امکانات کو متاثر کر سکتی ہے۔
مبصرین کے مطابق اگر منجمد ایرانی اثاثوں اور جوہری پروگرام سے متعلق بنیادی اختلافات پر پیش رفت نہ ہوئی تو مذاکرات مزید طویل ہو سکتے ہیں، تاہم دونوں ممالک کی جانب سے رابطوں کا سلسلہ جاری رہنا اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی راستہ ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔
