مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیل نے خطے میں ایک نیا محاذ کھولنے کے اشارے دیتے ہوئے یمن میں ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاری شروع کر دی ہے، جبکہ جنوبی لبنان سے مکمل انخلا سے بھی انکار کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج یمن میں اہداف کے خلاف کارروائی کے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی حکومت نے جنوبی لبنان میں اپنی سکیورٹی پالیسی برقرار رکھنے کا عندیہ دیتے ہوئے سرحدی علاقوں میں بفر زون قائم رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں سکیورٹی بفر زون برقرار رکھا جائے گا اور لبنان کے حوالے سے ابھی مزید اقدامات اور کارروائیاں باقی ہیں۔ ان کے بیان کو خطے میں کشیدگی کے مزید بڑھنے کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ادھر لبنان میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان کے ضلع Nabatieh میں ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں دو شہری جاں بحق ہو گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ Kfar Remen کے علاقے میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر Donald Trump کی جانب سے اسرائیل کو لبنان میں مزید فوجی کارروائیوں سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ تاہم تازہ حملوں کے بعد جنگ بندی انتظامات اور علاقائی استحکام کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل نے یمن میں بھی فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کیا تو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا ایک نیا مرحلہ شروع ہو سکتا ہے، جس کے اثرات لبنان، یمن اور دیگر علاقائی ممالک تک پھیلنے کا امکان ہے۔
