Table of Contents
امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنرل ڈین کین نے ایران جنگ کو مزید وسعت دینے کے ممکنہ فوجی نتائج پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
جنگ بڑھانے کے نتائج پر امریکی جنرل کو خدشات
رپورٹس کے مطابق جنرل ڈین کین کا خیال ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں مزید اضافہ الٹا نتیجہ دے سکتا ہے۔
انہوں نے اس حوالے سے مختلف اعلیٰ امریکی حکام کے ساتھ بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
جنرل ڈین کین نے مبینہ طور پر سی آئی اے ڈائریکٹر، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس سے بھی ایران جنگ کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا۔
صرف فضائی طاقت سے جنگ جیتنا مشکل
امریکی جنرل کے مطابق صرف فضائی طاقت پر انحصار کرتے ہوئے ایران کے خلاف جنگ جیتنا ممکن نہیں ہوگا۔
ان کے نزدیک جنگ کو مزید بڑھانے سے پیدا ہونے والے فوجی اور تزویراتی نتائج کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے۔
اسی تناظر میں جنرل ڈین کین ایران جنگ سے نکلنے کے ممکنہ راستے تلاش کر رہے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کے لیے اہم چیلنج
جنرل ڈین کین کے مبینہ تحفظات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایران جنگ کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کو فوجی اور سیاسی دونوں سطحوں پر اہم فیصلوں کا سامنا ہے۔
ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
جنرل ڈین کین کی جانب سے جنگ سے نکلنے کی حکمت عملی پر زور امریکی پالیسی میں ممکنہ تبدیلی کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
تاہم، امریکی انتظامیہ کی جانب سے جنرل ڈین کین کے مبینہ مشورے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
